امریکا نے بھارت اور دنیا بھر میں مسیحیوں پر ہونے والے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر کسی بھی فرد یا گروہ کے خلاف تشدد ناقابلِ قبول ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق بھارت میں کرسمس سے قبل ہندو انتہا پسند گروہوں کی جانب سے مسیحیوں پر مبینہ حملوں سے متعلق سوالات کے جواب میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکی حکومت دنیا بھر میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
ترجمان نے کہا”ہم دنیا بھر میں مسیحیوں کے خلاف حملوں اور مذہب کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے تشدد کی سخت مذمت کرتے ہیں، ہم ہر ملک میں مذہبی آزادی کی صورتحال کو بغور مانیٹر کرتے رہتے ہیں۔“
جب ترجمان سے پوچھا گیا کہ آیا امریکی محکمہ خارجہ بھارت کو بین الاقوامی مذہبی آزادی ایکٹ کے تحت کنٹری آف پارٹیکولر کنسرن (CPC) قرار دینے پر غور کر رہا ہے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے فیصلے مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔
ترجمان کے مطابق ”کنٹری آف پارٹیکولر کنسرن کے تعین کے وقت وزیر خارجہ تمام دستیاب معلومات اور جائزوں کو مدنظر رکھتے ہیں، جن میں سول سوسائٹی، انسانی حقوق کے کارکنان، مذہبی تنظیمیں اور ملکی و بین الاقوامی انسانی حقوق کے ادارے شامل ہوتے ہیں، ہم ایسے فیصلوں کا پیشگی اعلان نہیں کرتے۔“
میڈیا اور سول سوسائٹی رپورٹس کے مطابق کرسمس کے ہفتے کے دوران بھارت کی مختلف ریاستوں میں تشدد، نفرت انگیز تقاریر اور مذہبی کشیدگی کے 80 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے، جس سے مسیحی برادری میں خوف و ہراس پیدا ہوا اور تہوار کی تقریبات متاثر ہوئیں۔
رپورٹس کے مطابق ان واقعات میں سے کئی کا تعلق راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے وابستہ گروہوں اور دیگر دائیں بازو کی ہندو تنظیموں سے جوڑا جا رہا ہے، جن میں وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کا عسکری ونگ بجرنگ دل بھی شامل ہے۔
مسیحی عبادات، اسکولوں اور کرسمس کی سجاوٹ کو نشانہ بنانے، دھمکیوں اور خلل ڈالنے کے واقعات چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، اتر پردیش، آسام، اتراکھنڈ، کیرالہ اور نئی دہلی سمیت متعدد ریاستوں سے رپورٹ ہوئے ہیں۔
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) کی تازہ رپورٹ میں بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال کو ”بدترین زوال کا شکار“ قرار دیا گیا ہے اور ایک بار پھر امریکی محکمہ خارجہ کو سفارش کی گئی ہے کہ بھارت کو کنٹری آف پارٹیکولر کنسرن قرار دیا جائے۔
جہانزیب علی اے آر وائی نیوز امریکا میں بطور بیورو چیف فرائض انجام دے رہے ہیں


