کراچی (01 مارچ 2026): شہر قائد میں امریکی قونصل خانے پر احتجاج کے دوران فائرنگ سے ہونے والی اموات کے سلسلے میں پولیس نے لاعلمی کا اظہار کر دیا ہے کہ لوگوں کو گولیاں کیسے لگیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی پر مامور افسران اور اہلکاروں نے مظاہرین پر فائرنگ نہیں کی ہے، مظاہرین پر فائرنگ کہاں سے ہوئی، کس نے کی، کوئی علم نہیں۔
سیکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات افسران نے آف دی ریکارڈ مؤقف دیا ہے کہ ڈیوٹی پر مامور پولیس افسران و اہلکاروں نے اسلحہ استعمال ہی نہیں کیا۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ امریکی قونصل خانے میں پرائیویٹ سیکیورٹی بھی موجود ہوتی ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ کی امریکی قونصل خانہ واقعے پر غیر جانب دارانہ تحقیقات کی ہدایت، جے آئی ٹی تشکیل
واضح رہے کہ امریکی قونصلیٹ پر احتجاج کے دوران 9 افراد کی لاشوں کو سول اسپتال منتقل کیا گیا ہے، سول اسپتال ٹراما سینٹر کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 45 افراد کو سول اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
جاں بحق افراد میں کاظم مبارک، کاظم حسین زیدی، عدیل، ساجد علی، خاور عباس، محمد علی اور نامعلوم شخص شامل ہیں۔ فائرنگ کے بعد 36 زخمیوں کو بھی اسپتال منتقل کیا گیا، زخمی اور جاں بحق افراد کی عمریں 18 سے 50 سال کے درمیان ہیں۔ اسپتال کے مطابق تمام افراد فائرنگ سے جاں بحق یا زخمی ہوئے۔
نذیر شاہ کراچی میں اے آر وائی نیوز سے وابستہ سینئر صحافی اور کرائم رپورٹر ہیں، وہ 14 سال سے زائد عرصے سے اپنے شعبے میں مصروف عمل ہیں اور انویسٹیگیٹو نیوز بریکنگ میں مہارت رکھتے ہیں، اور کراچی کے جرائم اور پولیس نظام سے متعلق گہری سمجھ بوجھ کے حامل ہیں۔


