واشنگٹن(29 جنوری 2026): امریکی سائبرسیکیورٹی ایجنسی سیسا کے قائم مقام سربراہ ڈاکٹر مدھو گوتمُکلا کے متنازع اقدام نے ہل چل مچادی۔
یہ انکشاف معروف امریکی جریدے پولیٹیکونے کیا کہ امریکی سائبرسیکیورٹی ایجنسی سیسا کے قائم مقام سربراہ ڈاکٹر مدھو گوتمُکلا نے حساس سرکاری دستاویزات چیٹ جی پی ٹی پر اپ لوڈ کردیں تھیں۔
گوتمکلا نے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال اس وقت کیا جب محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ملازمین کیلئے اس ٹول کے استعمال پر پابندی تھی، اپ لوڈ کی گئی فائلز میں سیسا کی کنٹریکٹنگ سے متعلق دستاویزات شامل تھیں۔
یہ مواد خفیہ نہیں تھا تاہم اسے حساس تصور کیا جا رہا ہے، اگست میں سیسا کے سیکیورٹی سسٹمز نے ان اپ لوڈز پر متعدد بار وارننگز جاری کی تھیں، جس کے بعد گوتمکلا کے خلاف اندرونی چھان بین شروع کی گئی تھی۔
ایجنسی کے سائبر سیکیورٹی سینسرز نے اگست میں ان دستاویزات کی اپ لوڈنگ کو پکڑا تھا، جس کے بعد وزارتِ سیکیورٹی کے اعلیٰ حکام نے اس بات کا جائزہ لینے کے لیے اندرونی تحقیقات شروع کیں کہ آیا اس سے حکومتی سکیورٹی کو کوئی نقصان پہنچا ہے یا نہیں۔
دوسری جانب ایجنسی کی ترجمان مارسی مکارثی نے موقف اختیار کیا کہ گوٹوموکالا نے مروجہ ضوابط کے تحت ہی اس ٹول کا محدود استعمال کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایجنسی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ایگزیکٹو آرڈر پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے شعبے میں امریکی قیادت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


