The news is by your side.

Advertisement

بشارحکومت سوا لاکھ سے زائد گرفتار شدگان شامیوں کو رہا کرے ،امریکا

نیویارک:اقوام متحدہ میں امریکا کی مندوب کیلی کرافٹ نے شام کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام میں گرفتار افراد کو رہا کرے۔ امریکا کے ایلچی برائے شام جیر پیڈرسن کا کہنا تھا کہ آئینی کمیٹی کی تشکیل شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پہلا بڑا معاہدہ ہے

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق شام کے تنازع کے حوالے سے سلامتی کونسل کے ماہانہ اجلاس کے دوران کیلی نے کہا کہ تقریبا 1 لاکھ 28 ہزار شامی ابھی تک ظالمانہ طور پر قید ہیں۔ یہ کارستانی ناقابل قبول ہے اور بشار حکومت پر لازم ہے کہ وہ ان افراد کو رہا کرے۔

انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی مبصرین کو شام میں جیلوں کے اندر جانے کی اجازت دی جائے۔دوسری جانب اقوام متحدہ کے اجلاس میں روسی نائب وزیر خارجہ سرگئی ورشینن نے کہا کہ شام کے شمال مغربی صوبے اِدلب میں دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے کے دوران شہریوں کی سلامتی کی انتہائی درجے کی رعایت رکھی جائے۔

اجلاس میں سلامتی کونسل کے تمام ارکان نے دو سال کے مذاکرات کے بعد اقوام متحدہ کے زیر سرپرستی شام کے حوالے سے آئینی کمیٹی کی تشکیل کا خیر مقدم کیا۔ اس کمیٹی میں شامی اپوزیشن اور بشار حکومت کے ارکان شامل ہیں۔

ادھر شام کے لیے امریکا کے ایلچی جیر پیڈرسن کا کہنا تھا کہ آئینی کمیٹی کی تشکیل شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پہلا بڑا معاہدہ ہے اور آئین میں ترمیم ایک نئے سماجی سمجھوتے کی اجازت دے گی جو تباہ حال ملک کی بحالی میں مددگار ثابت ہو۔آئینی کمیٹی کے ارکان کا پہلا اجلاس 30 اکتوبر کو جنیوا میں منعقد ہو گا۔

یاد رہے کہ شام کی ابتر صورتحال پر گزشتہ ماہ اقوام متحدہ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ شام میں واقع الھول کیمپ میں ستر ہزار سے زیادہ افراد کو غیر انسانی صورت حال میں رکھا جارہا ہے، ان میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

الھول کیمپ شام کے شمال مشرقی علاقے میں بے گھر ہونے والے افراد کے لیے قائم کیا گیا تھا اور یہ امریکا کی حمایت یافتہ شامی جمہوری فورسز ( ایس ڈی ایف) کی شہری انتظامیہ کے زیراہتمام ہے،اس کیمپ کے مکینوں نے اس کو انسانی جہنم زار قرار دیا ہے، اس کیمپ میں بنیادی انسانی ضروریات اور ادویہ بھی دستیاب نہیں ہیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق برطانیہ کی غیر سرکاری تنظیم سیو دا چلڈرن نے ایک رپورٹ میں بتایاکہ اس کیمپ میں مقیم پانچ سال سے کم عمر قریباً تیس فی صد بچوں کا فروری کے بعد طبی معائنہ کیا گیا ہے اور وہ کم خوراکی کا شکار ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں