واشنگٹن : امریکا کے خطرناک بی-2 اسٹیلتھ بمبار طیاروں اور بائیس سو امریکی میرینز کو ایران پر حملے کیلئے روانہ کر دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق امریکا نے ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں میں غیر معمولی اضافہ کرتے ہوئے دنیا کے مہلک ترین بمبار طیاروں اور ہزاروں میرینز کو روانہ کردیا۔
آپریشن ایپک فیوری” کے تحت اب بی-2 اسٹیلتھ، بی-1 بی لانسرز اور بی-52 اسٹراٹو فورٹریس بمبار طیاروں کو مشن پر روانہ کیا گیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ بی-2 اسٹیلتھ بمبار طیارے طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔
ان طیاروں کی خاصیت یہ ہے کہ یہ 30 ہزار پاؤنڈ وزنی GBU-57 (بنکر بسٹر) بم گرانے والے واحد طیارے ہیں جو زمین کی گہرائی میں بنے قلعہ نما ٹھکانوں کو نیست و نابود کر سکتے ہیں۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے خبردار کیا ہے کہ فضائی حملوں میں "ڈرامائی اضافہ” کیا جائے گا، کچھ بی-1 بی طیاروں کو پہلے ہی 2000 پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹنگ وار ہیڈز سے لیس کر دیا گیا ہے۔
امریکی دفاعی قوت کو مضبوط کرنے کے لیے طیاروں کو مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا ہے:
5 بی-1 بی لانسرز برطانیہ کے آر اے ایف فیئرفورڈ پہنچ چکے ہیں، جبکہ 3 مزید طیارے جرمنی کے رامسٹین ایئر بیس پر تعینات ہیں، جو ایران پر کسی بھی وقت درست نشانے والے حملے کرنے کے لیے تیار ہیں۔
یو ایس ایس ٹریپولی سمیت دیگر بحری جہازوں پر 2200 امریکی میرینز مشرقِ وسطیٰ پہنچ چکے ہیں، اگرچہ فی الحال زمینی جنگ کا منصوبہ نہیں ہے، لیکن یہ نفری کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار ہے۔
یاد رہے گزشتہ سال "آپریشن مڈ نائٹ ہیمر” کے دوران بھی بی-2 طیاروں نے ایران کی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


