The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس، امریکی ڈاکٹرز کا ڈیکسا میتھاسون کے استعمال پر تحفظات کا اظہار

واشنگٹن: کرونا وائرس کے خلاف اسٹیرائیڈ دوا ڈیکسا میتھا سون کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آرہی ہے تاہم امریکی ڈاکٹرز اس دوا کے استعمال کے بارے میں تذبذب کا شکار ہیں۔

ڈیکسا میتھا سون دوا کی کرونا وائرس کے خلاف کامیابی نے ایک طرف تو امید کے نئے در وا کردیے ہیں، تو دوسری جانب امریکی ڈاکٹرز کو شک و شبہے میں مبتلا کردیا ہے۔

ہارورڈ کے میسا چیوسٹس جنرل اسپتال کی ڈائریکٹر ڈاکٹر کیتھری ہبرٹ کا کہنا ہے کہ وہ اس دوا کے استعمال کے حوالے سے مزید ڈیٹا سامنے آنے کی منتظر ہیں۔

ادھر ںیویارک کے ہیلتھ کیئر سسٹم کے ڈپٹی چیف کا کہنا ہے کہ اسٹرائیڈ قوت مدافعت کو دبا سکتے ہیں، چنانچہ اس دوا کا استعمال دیکھ بھال کر کرنے کی ضرورت ہوگی۔

خیال رہے کہ برطانوی میڈیکل جریدے دا لینسٹ میں شائع تحقیق میں کہا گیا تھا کہ کرونا وائرس کے مریضوں پر ڈیکسا میتھا سون دوا کا استعمال ان کی موت کے خطرے میں کمی کرسکتا ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی میں اس دوا کے کامیاب ٹرائل کے بعد دیکھا گیا کہ وینٹی لیٹر پر موجود جن 2 ہزار 1 سو مریضوں کو ڈیکسا میتھا سون دی گئی، ان میں سے 30 فیصد مریضوں کی جان بچ گئی۔

بعد ازاں جنوبی کوریا کے طبی ماہرین نے اس دوا کے استعمال کے ممکنہ مضر اثرات کے بارے میں بھی خبردار کیا۔

ڈیکسا میتھا سون انسانی جسم کے مدافعتی نظام کی جانب سے خارج کردہ مضر مادوں کو قابو کرتی ہے اور سوزش کم کرتی ہے، جو کورونا کے مریضوں کے لیے بہت مفید ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں