The news is by your side.

Advertisement

افغان انٹلی جنس نے طالبان رہنما ملا منصور کی ہلاکت کی تصدیق کردی

واشنگٹن: پاک افغان سرحد کے قریب امریکی ڈرون حملے میں افغان طالبان کے امیرملامنصور اختر مبینہ طور پر ہلاک ہوگئے ہیں،افغانستان کی انٹلی جنس نے تصدیق کردی۔

تفصیلات کے مطابق واشنگٹن میں پینٹاگون کے ترجمان پیٹرکک نے نیوز بریفنگ میں افغان طالبان کے امیر ملااخترمنصور پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ڈرون حملے میں ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا،یہ کارروائی امریکی فوج کے مفاد میں تھی جس کی اجاز ت امریکیصدر بارک اوباما نے دی.

افغانستان کی تصدیق

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق افغانستان نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی امریکی ڈرون حملے میں افغان طالبان کے رہنما ملا اختر منصور کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔

افغان سیکیورٹی فورسز کے ملا منصور امریکی حملے میں مارے گئے ہیں تاہم ان کی ہلاکت کے مقام کے بارے میں تفصیلات منظرِعام پر نہیں آئی ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق سینئر افغان طالبان رہنماملا عبد الرؤف نے ملامنصور اختر کی جمعے کی شب ڈرون حملے میں ہلاکت کی تصدیق کردی ہے.

4

دوسری جانب امریکی عسکریادارے پینٹاگون  نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملا منصور اس گاڑی میں موجود تھے تاہم ان کی ہلاکت کی تصدیق باقی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے عہدیدارنے انکشاف کیا ہے کہ حملے سے قبل پاکستانی حکامکواس کی پیشگی اطلاع دی جا چکی تھی.

طالبان شوریٰ کی تردید

طالبان شوریٰ نے ایک مختصر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’’شوریٰ کا اجلاس ہوا ہے اور ملااختر منصور زندہ اور خیریت سے ہیں‘‘۔

پاکستانی دفترِ خارجہ کا موقف

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے ملا اختر منصور کی ہلاکت سے متعلق آنے والی متضاد خبروں پر ابتدائی ردعمل جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے کی معلومات لے رہے ہیں، معلومات کے حصول کے بعد میڈیا اور متعلقہ افراد آگاہ کیا جائے گا۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا ہمیشہ سے یہی موقف رہا ہے کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پرآنا چاہیے اور پاکستان آج بھی اپنے اس موقف پر قائم ہے۔

افغانستان صدارتی ہاؤس کا ردعمل

افغانستان کے صدارتی محل کے ترجمان کے مطابق افغان طالبان کے امیر ملا اختر منصور ملا اختر کئی جرائم میں ملوث تھے اور انہوں نے افغانستان سے باہر پناہ لے رکھی ہے

افغان ترجمان نے مزید کہا کہملا منصور سے فون کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاہم  اب تک ان سے رابطہ استوار نہیں ہوسکا ہے۔

نوشکی میں ایک گاڑی دھماکے سے تباہ، دو افراد ہلاک

دریں اثنا گزشتہ روز بلوچستان کے علاقے نوشکی میں ایک گاڑی دھماکے سے تباہ ہوگئی تھی جس میں دو افراد سوار تھے جن میں سے ایک کی شناخت ٹیکسی ڈرائیور محمد اعظم کے نام سے ہوئی ہے جبکہ دوسرے شخص کے بارے میں ابہام ہے کہ آیا وہ ملا اختر منصورہیں یا ولی محمد جس کا پاسپورٹ جائے وقوعہ سے ملا ہے۔

دونوں لاشوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا تھا جہاں سے محمد عاظم نامی ڈرائیور کی لاش اس کے اہل خانہ کے حوالے کردی گئی جبکہ دوسری لاش تاحال اسپتال میں موجودہے۔

گاڑی سے ولی محمد نامی شخص کا پاسپورٹ ملا ہے: لیویز

لیویز ذرائع کے مطابق تباہ شدہ گاڑی کے ملبے سے ایک پاسپورٹ ملا ہے جو کہ ولی محمدنامی شخص کا ہے جو کہ بلوچستان کے علاقے قلعہ عبداللہ کا رہائشی تھا۔

پاسپورٹ پر درج تفصیلات کے مطابق ولی محمد نامی اس شخص نے رواں سال 14 اپریل کو پاکستان سے ویزا لے کر ایران گیا اور گزشتہ روز یعنی 21 مئی کو تفتان بارڈرسےباقاعدہ ویزا انٹری کرا کر پاکستان میں داخل ہوا تھا۔

passport

بلوچستان میں پہلا ڈرون حملہ

واضح رہے کہ اگر نوشکی سے نملنے والی لاش ملا منصور کی ہے تو پاکستانی سرزمین پر بلوچستان میں یہ پہلا ڈرون حملہ ہوگا، امریکہ کی جانب سے تاحال ملا منصور کو بلوچستان میں نشانہ بنانے کی تردید یا تصدیق نہیں کی۔

امریکی سینیٹر جان کیری کہتے ہیں کہ ڈرون حملے سےمتعلق پاکستان اور افغانستان کے متعلقہ حکام کو آگاہ کردیا گیا تھا۔

اس سے قبل پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے ہوتے رہے ہیں جبکہ ایک ڈرون حملہ خیبرپختونخواہ کے سیٹل علاقوں میں بھی ہوا تھا۔

ڈاکٹر شاہد مسعود کا تجزیہ

اے آروائے نیوز کے سینئر اینکر پرسن شاہد مسعود کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں نوشکی کے علاقے احمد وال کے نزدیک ایک گاڑی تباہ شدہ حالت پائی گئی ہے جس میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں، ڈرائیور کی شناخت محمد اعظإ کے نام سے ہوئی ہے جب کہ ہلاک ہونےوالے  دوسرے شخص مبینہ طورپر ملا اختر منصور ہیں۔

بائیں سے ملا نیک محمد، افغان تاجرحاجی فرید اور ملا اختر منصور

ملا منصور بحیثیت طالبان رہنما – مختصر جائزہ

یاد رہے کہ ملااخترمنصور کو ملا عمر کےبعد13 جولائی 2015 میں افغان طالبان کی قیاد ت سونپی گئی تھی.

شوریٰ نے ملا عمر کے نائب ملا اختر منصور کو تنظیم کا امیر مقرر کیا تھا، افغانستان کے صوبے قندھار میں رہنے والے ملا منصور کا تعلق اسحاق زئی قبیلے سے تھا اور ان کی عمر پچاس سال کے لگ بھگ تھی۔

Rahimullah-Mullah-Mansoor

ملا منصور لڑائی کا وسیع تجربہ رکھتے تھے، وہ طالبان دور حکومت میں سول ایوی ایشن کے وزیر بھی رہ چکے ہیں۔

ملا منصور کی امارت پر طالبان کی صفوں میں دراڑیں پیدا ہوگئی تھیں جسے دور کرنے کے لیے طالبان شوریٰ نے دو نائب امیر بھی مقرر کر دیئے گئے تھے، جن میں حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی اور طالبان کے قاضی ہیبت اللہ اخونزادہ کونئے امیر کا نائب منتخب کیا گیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں