بغیراطلاع ڈرون حملے پر پاکستان کا امریکا سے شدید احتجاج کا فیصلہ drone strike
The news is by your side.

Advertisement

بغیراطلاع ڈرون حملے پر پاکستان کا امریکا سے شدید احتجاج کا فیصلہ

اسلام آباد : پاکستان نے بغیراطلاع ڈرون حملے پر امریکا سے شدید احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مریکہ کی جانب سے گزشتہ روز کرم ایجنسی میں کئے گئے ڈرون حملے کے بعد پاک امریکا تعلقات میں کشیدگی اور بد اعتمادی میں اضافہ ہوا ہے اور بغیر اطلاع ڈرون حملے پر پاکستان نے امریکا سے سخت احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ روز امریکا کی جانب سے کئے جانے والے ڈرون حملے کے بعد پاکستان آنے والی امریکی شخصیات کے لیے پروٹوکول ضوابط تبدیل کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، طے کیا گیا ہے کہ جس عہدے کا افسر ہوگا اسی عہدے کا ہی پاکستانی عہدے دار اسے ملے گا۔

ذرائع کے مطابق نئے پروٹوکول کے تحت ہی وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے سینٹ کام کمانڈر جنرل جیمز ووٹل سے ملنے سے انکار کیا تھا اور باربار کی درخواست کے باوجود وزیر دفاع امریکی جرنیل سے نہیں ملے تھے۔

تاہم ترکی، سعودی عرب اور چین جیسے دوست ممالک کے لیے خصوصی طور پر پروٹوکول قواعد میں نرمی ہوگی۔


مزید پڑھیں : کرم ایجنسی : پاک افغان سرحد پر امریکی ڈرون حملہ، 3 جاں بحق


یاد رہے کہ پاک افغان سرحد پر کرم ایجنسی میں امریکی ڈرون طیارے نے ایک مکان پر دو میزائل فائر کیے، جس کے نتیجے میں مکان میں موجود تین افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے تھے جبکہ حملے میں مکان مکمل طور پر تباہ ہوگیا تھا۔

زرائع کے مطابق حملہ طالبان رہنما مولانا محب کے گھر پرہوا ہے،  حملے میں طالبان دور حکومت میں افغان سفیر مولانا عبدالسلام کے داماد کے مارے جانے کی اطلاعات تھیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں