The news is by your side.

Advertisement

مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے کا باضابطہ افتتاح آج ہورہا ہے

یروشلم : عالمی برادری کی مخالفت کے باوجود مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے کا باضابطہ افتتاح آج ہورہا ہے، اسرائیلی سفارت خانے کے افتتاح سے قبل منعقدہ تقریب میں کئی ممالک کے سفیروں نے شرکت نہیں کی۔

تفصیلات کے مطابق امریکہ نے عالمی برادری کے مطالبے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے سفارت خانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کردیا، اسرائیلی وزارت خارجہ میں سفارت خانے کی منتقلی کا جشن منانے کے لئے تقریب منعقد ہوئی، جس میں صدرٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ،داماد جیراڈ کوشنر اور دیگر اہم شخصیات شریک ہوئیں۔

تقریب میں اٹھاسی ملکوں کے سفیروں کو مدعو کیا تھا، جن میں سے زیادہ ترملکوں کے سفیروں نے تقریب میں شرکت نہیں کی۔

شام کے دارالحکومت دمشق میں امریکی سفارتخانے کی مقبوضہ بیت المقدس متنقلی کیخلاف احتجاجی مظاہرہ ہوا، مظاہرین نے امریکا اور ٹرمپ مخالف نعرے لگائے۔

دوسری جانب ترک صدررجب طیب اردوان نے سفارتخانے کی منتقلی کوامریکا کی بڑی غلطی قراردیا۔

امریکا کے قریبی اتحادی اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہونے سفارتخانے کی منتقلی کو جرات مندانہ فیصلہ قراردیا جبکہ فلسطینی رہنماؤں کا کہنا ہے امریکی سفارتخانے کی منتقلی امن کوششوں کے لئے بڑا دھچکہ ہے۔

حماس نےاعلان کیا ہےکہ فلسطینیوں کی گھروں کو واپسی کی مہم کے سلسلہ میں طےشدہ پروگرام کےمطابق پیرکےروزمارچ کیاجائےگا، جس کے بعد اسرائیل نے مغربی کنارےاورغزہ سےمنسلک سرحد پر فوجی قوت میں اضافہ کردیا ہے

یاد رہے کہ دو روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک روز قبل سفارت خانے کی منتقلی کے حوالے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پیغام دیا تھا کہ ’موجودہ ہفتہ بہت اہم، اور بڑا ہے کیوں اس ہفتے باقاعدہ طور پرامریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے اسرائیل کے نئے دارالحکومت یروشلم منتقل کردیا جائے گا‘۔

واضح رہے کہ گذشتہ برس کے اختتام پر وائٹ ہاوس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے جس کے بعد امریکی سفارت خانہ یروشلم منتقل کردیا جائے گا۔

جس کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کو کثرت رائے سے مسترد کردیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں