The news is by your side.

Advertisement

بگرام ایئربیس پر حملہ: امریکا اور طالبان کے مذاکرات پھر تعطل کا شکار

واشنگٹن / کابل: افغانستان کے صوبے پروان کے شہر میں امریکی فضائیہ کے زیراستعمال ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے کے بعد امریکا نے طالبان سے امن مذاکرات ایک بار پھر ملتوی کردیے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق افغان صوبے پروان کے شہر بگرام کا ایئر بیس امریکی فوج کے زیر استعمال تھا جہاں گزشتہ روز حملہ کیا گیا اور اس کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی۔

بگرام ایئر بیس پر ہونے والے حملے میں ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ہیں البتہ امریکا کی جانب سے ابھی تک تعداد جاری نہیں کی گئی۔ امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کا کہان تھا کہ طالبان رہنماؤں سے ملاقات میں بگرام ایئربیس پر ہونے والے حملے کی مذمت کی اور شدید تشویش کا اظہار کیا۔

غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس انتظامیہ نے ایک بار پھر طالبان سے ہونے والے مذاکرات ملتوی کردیے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر نے ستمبر میں گزشتہ ایک سال سے جاری مذاکرات معاہدے پر دستخط ہونے سے قبل منسوخ کر دیئے تھے، بعد ازاں ٹرمپ نے مذاکرات شروع کرنے کا عندیہ دیا تھا جس کے بعد افغان طالبان اور امریکی حکام کی 7 دسمبر کو ملاقات بھی ہوئی تھی۔

مزید پڑھیں:افغان طالبان سے مذاکرات کرنے کے دیگر بہت سے بہتر طریقے ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

یہ بھی یاد رہے کہ امریکا اور  افغان طالبان کے درمیان امن مذاکرات کے 9 دور ہوچکے ہیں، ایک موقع پر تو امریکی نمائندہ خصوصی نے دعویٰ بھی کیا تھا کہ دونوں فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے مگر امریکی صدر نے مذاکرات منسوخ کرنے کا اعلان کردیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں