The news is by your side.

Advertisement

امریکی نائب سیکریٹری خارجہ ایلس ویلز پاکستان پہنچ گئیں

اسلام آباد : امریکی نائب سیکریٹری خارجہ ایلس ویلزپاکستان پہنچ گئیں ، دورے میں ایلس ویلز عسکری و سول قیادت سے ملاقاتیں کریں گی۔

تفصیلات کے مطابق امریکی نائب سیکریٹری خارجہ ایلس ویلزپاکستان پہنچ گئیں، سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایلس ویلز اعلیٰ سطح وفدکےہمراہ رات گئے پاکستان پہنچیں، پانچ روزہ دورے میں ایلس ویلز عسکری و سول قیادت سے ملاقاتیں کریں گی۔

ذرائع کے مطابق ایلس ویلز وزارت خارجہ میں وفود کی سطح پر مذاکرات میں حصہ لیں گی۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں حالیہ اقدامات کو مسترد کرنے پر امریکی وفد کو آگاہ کیا جائےگا اور بھارتی اقدامات سے خطے کے امن و سلامتی کو خطرات پربات ہوگی۔

امریکی نائب سیکریٹری خارجہ سے ایل اوسی پر بھارت کی جانب سے کلسٹر بموں کے استعمال کے معاملہ کو اٹھایاجائےگا اور افغان مفاہمتی عمل پر پیشرفت پر کلیدی گفتگو ہو گی جبکہ علاقائی امن و سلامتی کے امور زیرغور آئیں گے۔

ایلس ویلز کےدورےکامقصد پاک،امریکا تعلقات کومستحکم کرناہے۔

مزید پڑھیں :  امریکا کا مقبوضہ و جموں کشمیر کی صورت حال پر تشویش کا اظہار

واضح رہے کہ بھارتی پارلیمنٹ نے آئین میں مقبوضہ کشمیر سے متعلق اہم ترین آرٹیکل 370 ختم کر دیا ہے، جس کے بعد وادی کی جداگانہ حیثیت کا خاتمہ ہو گیا ہے۔

پاکستان نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی اعلان مسترد کرتے ہوئے کہا تھا بھارت کا کوئی بھی یک طرفہ قدم کشمیر کی متنازعہ حیثیت ختم نہیں کر سکتا، بھارتی حکومت کا فیصلہ کشمیریوں اور پاکستانیوں کے لیے ناقابل قبول ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے مقبوضہ و جموں کشمیر کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں گرفتاریوں، نطربندیوں پر تشویش ہے،  مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کا احترام کیا جائے، پاکستان، بھارت ایل او سی پر امن و امان برقرار رکھیں۔

یاد رہے یکم اگست کو امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے وزیراعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور آرمی چیف قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کی تھی۔

زلمے خلیل زاد نے افغان مفاہمتی عمل میں مثبت پیش رفت سے آگاہ کیا تھا، انہوں نے افغان امن عمل کے لیے آئندہ کی حکمت عملی پر بھی بات کی تھی جبکہ ملاقات میں پاکستان کے تعاون، آئندہ کے مثبت اقدامات پر بھی توجہ مرکوز رہی، زلمے خلیل زاد نے کہا تھا کہ پاکستان، افغانستان اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں