تہران (20 اپریل 2026): امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز میں ایک ایرانی تجارتی بحری جہاز پر چڑھ کر قبضہ کر لیا ہے، ایرانی فوج نے اسے ’’بحری قزاقی‘‘ قرار دیتے ہوئے جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔
یہ حملہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ہوا ہے جب انھوں نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ ممکنہ بات چیت کے لیے اپنی ٹیم پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد بھیج رہے ہیں۔
امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں کارروائی کرتے ہوئے ایرانی پرچم والے مال بردار بحری جہاز ’’توسکا‘‘ کو قبضے میں لیا، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایک بیان میں کہا یہ کارروائی یو ایس ایس سپروئنس نے بحیرہ عرب میں کی، ایک بحری جہاز ’ایم وی توسکا‘ بندر عباس کی جانب جا رہا تھا، متعدد وارننگز کے باوجود جہاز نے حکم نہ مانا، 6 گھنٹے بعد جہاز کے انجن روم خالی کرانے کا حکم دیا گیا۔
سینٹکام کے مطابق فائرنگ کے بعد جہاز کا انجن ناکارہ بنا دیا گیا، فائرنگ سے جہاز کی حرکت مکمل طور پر روک دی گئی، اور 31 ویں میرین یونٹ نے جہاز پر قبضہ کر لیا، تعاون نہ کرنے پر بحری جہاز کو امریکا نے تحویل میں لیا۔ سینٹرل کمانڈ کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی پیشہ ورانہ اور متناسب انداز میں کی گئی۔
امریکی فوج نے ایرانی بحری جہازوں پر چڑھ کر انھیں ضبط کرنے کی تیاری کر لی، وال اسٹریٹ جرنل
ایرانی فوجی ہیڈکوارٹرز نے رد عمل میں کہا کہ ایرانی تجارتی جہاز پر حملہ کر کے امریکا نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے، امریکا نے نیوی گیشن سسٹم کو غیر فعال کر کے اہلکاروں کو جہاز میں اتارا، خلیج عمان میں اس بحری قزاقی کا جلد جواب دیں گے۔
اس سے قبل ابتدائی بیان میں ایرانی فورسز نے دعویٰ کیا تھا کہ بحری جہاز کو قبضے میں لینے کی امریکی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے، امریکی افواج نے بحیرہ عمان میں ایرانی تجارتی بحری جہاز پر فائرنگ کی، تاہم ایرانی بحریہ کی بروقت کارروائی سے امریکی فوج کو پسپائی ہوئی، امریکی فوج موقع سے واپس چلی گئی۔ تاہم ایرانی فورسزکے بیان میں کسی بحری جہاز کا نام نہیں لیا گیا تھا۔
دوسری طرف ایک ایرانی ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا کہ ایران اس مذاکرات میں حصہ نہیں لے گا کیوں کہ اس کا خیال ہے کہ اسے امریکا نے دھوکا دیا ہے، اور یہ کہ دونوں ممالک درحقیقت ایک اور کشیدگی کے دہانے پر ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


