واشنگٹن (03 جنوری 2026): امریکی وفاقی محکموں کو فنڈنگ کے لالے پڑ گئے، امریکا میں جاری جزوی شٹ ڈاؤن کا آج پیر کو تیسرا روز ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کئی وفاقی محکموں کی فنڈنگ ختم ہو گئی ہے، اور اخراجات کا بل منظور کرنے کی کوششیں ناکام ہو گئیں، بتایا جا رہا ہے کہ ریاست مینیسوٹا میں چھاپوں کے دوران 2 شہریوں کی ہلاکت پر کانگریس میں اختلافات ہیں۔
ڈیموکریٹس نے اخراجات بل پر سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں ساتھ دینے سے انکار کر دیا ہے، اور مؤقف پیش کیا ہے کہ انھوں نے شہریوں کے خلاف غیر قانونی چھاپے روکنے کے لیے فنڈنگ روکی ہے، ڈیموکریٹس کا مطالبہ ہے کہ امیگریشن اصلاحات کی جائیں۔ ادھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ریپبلکنز بل منظور کروائیں، طویل شٹ ڈاؤن نقصان دہ ہے۔
سینیٹ کے ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز نے جمعرات کے روز اخراجات سے متعلق پانچ بلوں کے ایک پیکج پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم ہوم لینڈ سیکیورٹی کے لیے پورے مالی سال کی فنڈنگ سے متعلق چھٹا بل اس پیکج سے نکال دیا گیا۔ اس کی بجائے سینیٹ نے ڈی ایچ ایس کے لیے دو ہفتوں کی عارضی فنڈنگ کی منظوری دی، تاکہ قانون سازوں کو اس کے طویل المدتی بجٹ پر اختلافات حل کرنے کے لیے مزید وقت مل سکے۔
امریکی امیگرنٹ ویزا معطلی کا فیصلہ عدالت میں چیلنج
ڈیموکریٹس امیگریشن کے نفاذ کے نظام میں تبدیلیاں چاہتے ہیں، جن میں یہ شرط بھی شامل ہے کہ اہلکار باڈی کیمرے پہنیں جو آن ہوں، اور وہ ماسک نہ پہنیں۔
سینیٹ سے منظور ہونے والا پیکج اب ایوانِ نمائندگان کی منظوری کا محتاج ہے، جس کے بعد اسے دستخط کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھیجا جائے گا۔ سینیٹ کے اس پیکج میں وزارتِ دفاع، وزارتِ صحت، محکمۂ خزانہ، وفاقی عدالتی نظام اور دیگر اداروں کے لیے 30 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال کے اختتام تک فنڈنگ شامل ہے۔ تاہم ان وفاقی اداروں کے لیے فنڈنگ ہفتے کی رات بارہ بجے ختم ہو گئی، جس کے نتیجے میں جزوی شٹ ڈاؤن ہو گیا، کیوں کہ ایوانِ نمائندگان نے تاحال اس کی منظوری نہیں دی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


