The news is by your side.

Advertisement

امریکا میں فائرنگ کے مسلسل واقعات کے بعد ’گن کنٹرول‘ کے حوالے سے اچھی خبر

واشنگٹن: امریکا میں 30 سال بعد حکومت اور اپوزیشن گن کنٹرول کے لیے قانون سازی پر متفق ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق امریکا میں فائرنگ کے مسلسل واقعات کے بعد ‘گن کنٹرول’ کے حوالے سے اچھی خبر آ گئی ہے، حکومت اور اپوزیشن گن کنٹرول کے لیے قانون سازی پر متفق ہو گئے۔

ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز سینیٹرز نے گن کنٹرول کے ایک بل کے مسودے پر اتفاق کر لیا ہے، دونوں جماعتوں کے 20 سینیٹرز پر مشتمل کمیٹی نے مذاکرات میں حصہ لیا۔

مجوزہ مسودے میں اسلحہ خریدنے کے لیے 21 سال عمر، اور سخت بیک گراؤنڈ چیک شامل ہیں، اسلحہ اسمگلروں کے لیے سخت سزا مقرر کی گئی ہے جب کہ گھریلو تشدد میں ملوث افراد کے اسلحہ خریدنے پر پابندی عائد ہوگی۔

گن کنٹرول کے اس مسودے کو باقاعدہ قانون بنانے کے لیے کانگریس کے دونوں ایوانوں سے اس کی منظوری تاحال باقی ہے، تاہم اگلے ہفتے اس پر دستخط کیے جا سکتے ہیں، خیال رہے کہ امریکا میں فائرنگ کے مسلسل واقعات کے بعد گن کنٹرول کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔

ڈیموکریٹ رہنما اور پاکستان کاکس کے رکن ڈاکٹر آصف ریاض قدیر کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ گن کنٹرول کے لیے قانون سازی پر اتفاق ایک بڑی کامیابی ہے۔

اگرچہ مجوزہ بل میں موجود تجاویز اس سے کہیں کم ہیں، جن کا مطالبہ بہت سے ڈیموکریٹس اور کارکنوں نے بڑے پیمانے پر فائرنگ کے بعد کیا، تاہم بل میں 21 سال سے کم عمر خریداروں کے لیے پس منظر کی سخت جانچ کو شامل کر دیا گیا ہے۔

اس بل میں ریاستوں کو "ریڈ فلیگ” قوانین پر عمل درآمد کرنے کی ترغیب دینے کے لیے فنڈز فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے، تاکہ ان لوگوں سے آتشیں اسلحہ لیا جا سکے جنھیں خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ اس ایکٹ میں دماغی صحت کے پروگراموں اور اسکول سیکیورٹی اپ گریڈ کے لیے بھی وفاقی فنڈنگ میں 15 ارب ڈالر کا مطالبہ شامل کیا گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں