The news is by your side.

Advertisement

سری لنکا میں حملے نظام کی واضح ناکامی ہے، امریکی سفیر کی تنقید

کولمبو : سری لنکا میں امریکی سفیر علینا ٹیپلیٹز نے بتایا ہے کہ یہ واضح ہے کہ نظام میں ناکامی ہے تاہم امریکا کو ان حملوں کے حوالے سے کوئی رپورٹ نہیں تھیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے سرکاری اطلاعات پر بھی حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ حکام خود واضح نہیں ہیں اور اس حوالے متضاد بیانات دے رہے ہیں،

امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ ایف بی آئی ایجنٹس اور امریکی فوجی عہدیداروں کی ایک ٹیم تفتیش میں مدد کررہی ہے۔

واضح رہے کہ سری لنکا میں ایسٹر کے دن حملے کرنے والے خود کش بمباروں سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، معلوم ہوا ہے کہ ایک خود کش حملہ آور نے برطانیہ اور آسٹریلیا سے تعلیم حاصل کی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق سری لنکن نائب وزیر دفاع نے بتایا کہ خود کش بم بار نے برطانیہ میں تعلیم حاصل کی تھی، ایک کورس کے لیے آسٹریلیا بھی گیا جس کے بعد وہ سری لنکا آ کر رہنے لگا۔

نائب وزیر دفاع نے بتایا کہ دہشت گرد پڑھے لکھے اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، سری لنکا پر حملہ معاشی طور پر مستحکم دہشت گردوں نے کیا۔

سری لنکا حملے: خود کش حملہ آور کا برطانیہ و آسٹریلیا میں تعلیم حاصل کرنے کا انکشاف

خیال رہے کہ سری لنکن پولیس ذرایع نے بھی کہا ہے کہ حملہ آوروں میں سے دو کا تعلق کولمبو کے ایک دولت مند تاجر کے گھرانے سے تھا، ان دو بھائیوں نے دو الگ ہوٹلوں پر حملے کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  انٹرپول کا سری لنکا میں دھماکوں کی تحقیقات کیلئے ماہرین بھیجنے کا اعلان

سری لنکا کے وزیر اعظم نے حملوں سے متعلق مؤقف ظاہر کیا ہے کہ ایسے حملے بیرونی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہیں، داعش نے حملوں کی ذمہ داری قبول کی لیکن شواہد نہیں دیے۔

سری لنکن صدر نے ملک کی سیکورٹی کی مکمل تعمیر نو کا عندیہ بھی دیا ہے، دفاعی فورسز کے سربراہان تبدیل کیے جانے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ سری لنکا میں تین روز کا سوگ منایا جا رہا ہے، ایسٹر کے موقع پر ہونے والے سری لنکا دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد 359 ہو گئی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں