The news is by your side.

Advertisement

امریکا نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای پر پابندیاں عاید کردیں

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف پر بھی اسی ہفتے پابندیاں عاید کی جائیں گی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید سخت پابندیوں کے حکم نامے پر دستخط کر دئیے، اس حکم نامے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پر پابندیوں کا نفاذ بھی کیا گیا ہے، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ بھی پابندیوں کی زد میں ہیں۔

تفصیلات کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کی جانب سے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی پالیسیوں کا ذمہ دارایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کو قرار دیا ہے ۔ اوول آفس میں اس حکم نامے پر دستخط کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران پر دباؤ میں اضافہ کرتا رہے گا۔

انہوں نے ایک مرتبہ پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر پائے گا۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے بہتر ردعمل کا مظاہرہ کیا گیا، تو اس کے خلاف پابندیاں فوری طور پر ختم بھی کی جا سکتی

دوسری جانب امریکی وزیرخزانہ سٹیون منوچن نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر پابندیوں کے نئے ایگزیکٹو آرڈر جاری کرنے کے بعد کہا ہے کہ رواں ہفتے ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف پربھی امریکی پابندیاں عاید کی جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے امریکی فوجی ڈرون مار گرائے جانے کا واقعہ ایران کی ایک دانستہ کارروائی اور سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔عرب ٹی وی کے مطابق امریکی وزیرخزانہ نے کہا کہ ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف پر پابندیاں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی ہیں تاہم انہوں نے انٹیلی جنس کے ذریعے حاصل ہونے والی معلومات کے بارے میں مزید کوئی بات نہیں کی۔

سٹیون منوچن کا کہنا تھا کہ ایرانی وزیرخارجہ پر عاید کی جانے والی بعض پابندیاں تیاری کی مرحلے میں ہیں اور بعض ایران کی حالیہ سرگرمیوں پرعاید کی جائیں گی۔

انہوں نے ایران پر دہشت گردی کی پشت پناہی ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ تہران پر نئی اقتصادی پابندیاں گذشتہ جمعرات کو امریکی ڈرون طیارہ مارگراے جانے کا رد عمل ہیں۔

قبل ازیں امریکی وزارت ِخزانہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا تھا کہ امریکا نے ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کے آٹھ سینئر عہدہ داروں پر امریکا نے پابندیاں عاید کرنے کا اعلان کیا تھا۔

خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نےچار روز قبل ہی بین الاقوامی فضائی حدود میں ایک امریکی ڈرون کو مار گرائے جانے کے بعد اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے ردعمل میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے شاید غلطی سے امریکا کا ڈرون مار گرایا ہے۔

اس سے قبل ایران کی جانب سے امریکی ڈرون گرائے جانے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران نے امریکی ڈرون گرا کر بہت بڑی غلطی کی ہے ۔واضح رہے کہ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا تھا کہ امریکی ڈرون گرائے جانے کے بعد ٹرمپ نے ایران پر حملے کا حکم دیا تھا لیکن حملے کا فیصلہ اچانک واپس لے لیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں