واشنگٹن: امریکی انٹیلیجنس اداروں کا کہنا ہے کہ ایران کی قیادت اب بھی بڑی حد تک مضبوط اور قائم ہے اور اسے فوری طور پر حکومت کے خاتمے یا زوال کا خطرہ نہیں ہے۔ یہ بات اس معاملے سے واقف تین ذرائع نے بتائی ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی شدید بمباری کے باوجود مختلف انٹیلیجنس رپورٹس میں مسلسل یہی تجزیہ سامنے آیا ہے کہ ایرانی حکومت کے گرنے کا کوئی امکان نہیں اور حکومت اب بھی ایرانی عوام پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے۔
ایک ذریعے نے بتایا کہ حالیہ انٹیلیجنس رپورٹ چند دن پہلے مکمل کی گئی ہے۔ اس دوران تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث سیاسی دباؤ بڑھ رہا ہے، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ 2003 کے بعد امریکا کی سب سے بڑی فوجی کارروائی کو وہ جلد ختم کر سکتے ہیں۔
انٹیلیجنس رپورٹ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملوں کے پہلے ہی دن سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے باوجود ایرانی مذہبی قیادت میں اتحاد موجود ہے۔
اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیں
خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی حکام نے بھی بند کمرہ اجلاسوں میں اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ اس جنگ کے نتیجے میں ایران کی مذہبی حکومت کے خاتمے کی کوئی یقینی ضمانت نہیں ہے۔
ذرائع نے خبردار کیا کہ زمینی صورتحال تیزی سے بدل سکتی ہے اور ایران کے اندرونی حالات کسی بھی وقت نئی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


