واشنگٹن : امریکی فوجی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی فوج ہی ممکنہ طور پر ایران میں لڑکیوں کے اسکول پر حملے کی ذمہ دار ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے ‘روئٹرز’ کی جانب سے بتایا گیا کہ امریکی فوجی تفتیش کاروں نے اس امکان کا اظہار کیا ہے کہ امریکی فورسز کی کارروائی کے دوران ہی میناب کے اسکول کو نشانہ بنایا گیا۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کہنا تھا کہ امریکی محکمہ جنگ (پینٹاگون) اس وقت اس واقعے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کر رہا ہے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ یہ غلطی کس سطح پر ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ 28 فروری کو پیش آیا جب امریکی فوج خطے میں ایرانی بحری اڈے کو نشانہ بنانے کے لیے آپریشن کر رہی تھی اور نشانہ بننے والا اسکول ایرانی بحری اڈے کے بالکل قریب واقع تھا۔
ایرانی نیول بیس پر امریکی حملوں کے دوران ایک میزائل یا بم اسکول پر گرا، جس کے نتیجے میں پوری عمارت تباہ ہو گئی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ اسکول کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا گیا تھا بلکہ یہ بحری اڈے پر حملے کے دوران ہونے والا ایک المناک حادثہ تھا، تاہم حتمی رپورٹ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد جاری کی جائے گی۔
اس حملے کو جاری کشیدگی کا سب سے بڑا انسانی المیہ قرار دیا جا رہا ہے، ایرانی اسکول پر اٹھائیس فروری کوحملہ ہوا تھا، جس میں ایک سو پینسٹھ طالبات سمیت ایک سو نوے سے زائدافرادجاں بحق ہوئے تھے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


