(15 جون 2026): ایران امریکا معاہدے کو معروف اسرائیلی تجزیہ کار گیڈون لیوی نے نیتن یاہو کی ذاتی شکست قرار دے دیا ہے۔
امریکا اور ایران امن معاہدے پر متفق ہو گئے جس کا دونوں فریقین کی جانب سے باضابطہ اعلان بھی کیا گیا ہے، تاہم اس خبر کے ساتھ ہی اسرائیل میں صف ماتم بچھ چکا ہے۔
ایک جانب جہاں انتہا پسند اسرائیلی وزیر اس کے خلاف ہرزہ سرائی کر رہے ہیں، وہیں ایک معروف اسرائیلی تجزیہ کار گیڈون لیوی نے حقیقت پر مبنی تجزیہ پیش کرتے ہوئے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو اسرائیل اور بالخصوص اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کی ’ذاتی شکست‘ قرار دیا ہے۔
الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے گیڈون لیوی نے کہا کہ ایران کا معاملہ نیتن یاہو کا ’زندگی بھر کا منصوبہ‘ رہا ہے، تاہم موجودہ معاہدے میں اسرائیل کو مذاکراتی عمل سے مکمل طور پر باہر رکھا گیا، جس کے باعث تل ابیب کے پاس صرف تخریبی کارروائیوں کا راستہ بچا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اتوار کو بیروت کے جنوبی مضافات پر اسرائیلی حملے اسی نوعیت کی کوششوں کا حصہ تھے، ان کارروائیوں کے باوجود اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ اس پورے عمل میں اسرائیل کو سیاسی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
اسرائیلی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ اصل امتحان ابھی باقی ہے اور یہ دیکھنا ہو گا کہ امریکی صدر ٹرمپ اسرائیل کو کس حد تک قابو میں رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں، کیونکہ نیتن یاہو ایسے کسی بھی جنگ بندی معاہدے کو ناکام بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں جو اسرائیل کے بنیادی اہداف پورے نہ کرے۔
گیڈون لیوی نے خبردار کیا کہ ایران کے ساتھ ہونے والا معاہدہ اب بھی انتہائی نازک مرحلے میں ہے اور اس کی کامیابی کا سب سے بڑا امتحان لبنان کی صورتِ حال ہو گی۔
تاریخی ڈیل مکمل، امریکا اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کر دی


