تہران (12 فروری 2026): ایرانی وزیر خاجہ نے اسرائیلی میڈیا پر الزام لگایا ہے کہ اس نے امریکا ایران مذاکرات ناکام بنانے کی کوشش کی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیلی میڈیا پر ایران کے بارے میں سنسنی خیز دعوے کرنے کا الزام عائد کیا ہے تاکہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کو ناکام بنایا جا سکے۔
عراقچی نے بدھ کو رات گئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا ’’جب بھی مریم ایڈلسن سے وابستہ میڈیا ایران کے بارے میں سنسنی خیز دعوے پھیلاتا ہے، تو ہمیں یہ سوال کرنا چاہیے کہ یہ کس کے مفادات کی خدمت کر رہا ہے۔ یہاں تک کہ امریکی صدر نے بھی ان کی بنیادی وفاداریوں کا اعتراف کیا ہے۔‘‘
Whenever Miriam Adelson’s mouthpiece pushes a dramatic claim about Iran, it’s worth asking who it serves. Even the U.S. President has acknowledged where her primary loyalties lie.
In its latest piece, Adelson's outlet declared—just an hour before Netanyahu’s White House… pic.twitter.com/pJK3JFqRz8
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) February 11, 2026
انھوں نے کہا کہ نیتن یاہو کے وائٹ ہاؤس کے دورے سے ایک گھنٹہ پہلے ’اسرائیل ہیوم‘ نے یہ خبر شائع کی کہ ایران نے ’’ڈونلڈ ٹرمپ کو دھوکا دیا‘‘۔ عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ مظاہروں میں شریک کسی بھی شخص کو سزائے موت نہیں دی گئی اور نہ کوئی عدالتی کارروائی مکمل ہوئی ہے، بلکہ دو ہزار سے زائد قیدیوں کو معافی دی گئی ہے۔
اسرائیلی آبادکاروں نے درجن سے زائد فلسطینیوں کے گھر مسمار کردیئے
انھوں نے ’’اصل گمراہ کرنے والے‘‘ کو تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنے سے فائدہ اٹھاتا ہے۔
گزشتہ منگل کو ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے دو ہزار سے زائد سزا یافتہ افراد کی معافی یا سزا میں کمی کا اعلان کیا تھا۔ عدلیہ کے مطابق اس فہرست میں حالیہ احتجاجی مظاہروں میں شریک کوئی بھی شخص شامل نہیں ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر مظاہرین کے خلاف تشدد اور سزائے موت کا سلسلہ نہ رکا تو فوجی آپشن استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


