واشنگٹن (11 مارچ 2026): امریکا نے پیر کے روز اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ ایرانی آئل تنصیبات پر حالیہ حملوں سے ’’خوش نہیں ہے‘‘ اور اسرائیل کو ہدایت کی کہ آئندہ واشنگٹن کی منظوری کے بغیر ایسا دوبارہ نہ کرے۔
خبر رساں امریکی ادارے ایگزیوس نے رپورٹ کیا کہ امریکا نے اسرائیل کو ایرانی آئل تنصیبات پر حملوں سے روک دیا ہے، امریکا نے اسرائیل سے کہا ایرانی توانائی کی تنصیبات پر بمباری نہ کرے۔
یہ انتباہ اس وقت دیا گیا جب اسرائیل نے اپنے حملوں کے اہداف کو بڑھاتے ہوئے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا اور ہفتے کے آخر میں کئی تیل کے ڈپوؤں پر حملے کیے۔ اس اقدام پر ٹرمپ انتظامیہ کے اتحادیوں کی طرف سے بھی تنقید سامنے آئی، جن میں سینیٹر لنزے گراہم شامل ہیں، جو اس جنگ کے حامی رہے ہیں۔
یہ پہلی بار ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو روکنے کی کوشش کی ہے، جب کہ دونوں ممالک نے دس دن پہلے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی شروع کی تھی۔ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں تہران، جو تقریباً ایک کروڑ آبادی والا شہر ہے، زہریلے سیاہ دھوئیں اور تیزابی بارش کی لپیٹ میں آ گیا، جس سے عام ایرانی شہریوں کی صحت کے بارے میں فوری خدشات پیدا ہو گئے۔
ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق امریکی پیغامات اعلیٰ سیاسی سطح پر اور اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زمیر تک پہنچائے گئے ہیں۔ ایک اور اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ امریکا نے ہم سے کہا ہے کہ اگر آئندہ ایران کی تیل کی تنصیبات پر کوئی حملہ کیا جائے تو اس سے پہلے انہیں اطلاع دی جائے۔
اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیں
امریکا کی جانب سے یہ درخواست کرنے کی تین وجوہ بتائی گئیں: ایسے حملوں سے عام ایرانی شہری متاثر ہوتے ہیں، جب کہ ان میں سے بڑی تعداد ایرانی حکومت کی مخالف سمجھی جاتی ہے۔ ٹرمپ جنگ کے بعد ایران کے تیل کے شعبے کے ساتھ تعاون کرنا چاہتے ہیں، جیسا کہ انھوں نے وینزویلا کے معاملے میں کیا تھا۔ ان حملوں کے نتیجے میں ایران خلیجی ممالک کی توانائی کی تنصیبات پر بڑے پیمانے پر جوابی حملے کر سکتا ہے۔
ایگزیوس کے مطابق جنگ کے شروع میں ایران نے خلیجی ممالک کی توانائی کی تنصیبات پر ڈرون حملے کیے تھے، لیکن ان سے زیادہ یا مستقل نقصان نہیں ہوا تھا۔ تاہم امریکا کو خدشہ ہے کہ اگر ایرانی تیل کی تنصیبات پر دوبارہ بڑے حملے ہوئے تو صورت حال بدل سکتی ہے اور عالمی تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
ایک ذریعے کے مطابق ٹرمپ ایران کی توانائی اور تیل کی تنصیبات پر حملے کو ’’آخری اور انتہائی خطرناک آپشن‘‘ سمجھتے ہیں، جسے صرف اس صورت میں استعمال کیا جانا چاہیے جب ایران پہلے خلیجی ممالک کی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنائے۔
ریپبلکن سینیٹر لنزے گراہم نے بھی اسرائیل کی جانب سے ایندھن کے ڈپوؤں پر حملوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ’’براہِ کرم اہداف کے انتخاب میں احتیاط کریں۔ ہمارا مقصد ایرانی عوام کو آزادی دلانا ہے، نہ کہ ان کے مستقبل کی بہتر زندگی کے امکانات کو تباہ کرنا۔ ایران کی تیل کی معیشت اس مقصد کے لیے اہم ہوگی۔‘‘
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


