واشنگٹن : امریکی میڈیا نے جنگ روکنے کے لئے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا پاکستان میں ایک میٹنگ کیلئے کام کر رہے ہیں جو رواں ہفتے ہو سکتی ہے۔
ایران پر مسلط امریکہ اور اسرائیل کی جنگ روکنے کے لیے پاکستان کے متحرک کردار نے عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کر لی ہے۔
سی این این اور وال اسٹریٹ جرنل سمیت معروف امریکی میڈیا اداروں نے پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کا اعتراف کرتے ہوئے اسے خطے میں امن کا ضامن قرار دیا ہے۔
سی این این کی رپورٹ میں بتایا کہ امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان میں ایک اہم ترین اجلاس کے لیے کام کیا جا رہا ہے جو رواں ہفتے ہو سکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس خود پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں تاکہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے براہِ راست بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکے۔
وال اسٹریٹ جرنل کا بھی کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ تنازع کو اگلے 4 سے 6 ہفتوں میں مستقل طور پر حل کرنا چاہتے ہیں، ٹرمپ کی خواہش ہے کہ چینی صدر سے مئی میں ہونے والی ملاقات سے قبل ایرانی معاملہ نمٹ جائے تاکہ وہ مکمل توجہ عالمی اقتصادی ایجنڈے پر مرکوز کر سکیں۔
دوسری جانب ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے واشنگٹن کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی تردید کی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات تو بھیج رہا ہے، لیکن اسے باقاعدہ مذاکرات نہیں کہا جا سکتا۔
عراقچی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران مستقل تصفیہ چاہتا ہے، مگر اس میں جنگ سے ہونے والی تباہی کا معاوضہ اور نقصانات کا ازالہ لازمی شامل ہونا چاہیے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


