جمال خاشقجی کو سعودی قونصل خانے میں قتل کردیا، امریکی اخبارکا دعویٰ Jamal-khashoggi
The news is by your side.

Advertisement

جمال خاشقجی کو سعودی قونصل خانے میں قتل کردیا، امریکی اخبارکا دعویٰ

سعودی صحافی کے قتل میں سعودی عرب کی خفیہ ایجنسی ’جی آئی پی‘ کے اعلیٰ افسران ملوث ہیں

استنبول/ریاض : امریکی اخبار سے منسلک سعودی صحافی جمال خاشقجی کو قونصل خانے میں قتل کرکے لاش کے ٹکڑے کردئیے گئے، صحافی کے قتل میں سعودی خفیہ ایجنسی کے اعلیٰ افسران ملوث ہیں۔

تفصیلات کے مطابق امریکی اخبار سے منسلک سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی اور مبینہ قتل کے حوالے سے ترک حکام نے تحقیقات میں دعویٰ کیا ہے کہ خاشقجی سے تفتیش کے مشن پر سعودی عرب کی خفیہ ایجنسی ’جی آئی پی‘ کے اعلیٰ افسران ترکی آئے تھے۔

امریکی خبر رساں ادارے سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ جمال خاشقجی سے تفتیش کے لیے ترکی آنے والے خفیہ ایجنسی کے اعلیٰ افسران ولی عہد محمد بن سلمان کے قریبی ساتھیوں میں سے ہیں تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ 33 سالہ ولی عہد نے خود انہیں اجازت دی تھی یا نہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے ذرائع سے بتایا کہ سعودی حکام نے خفیہ ایجنسی کے افسران کو جمع کیا اور ترکی روانہ کیا تاکہ ریاست کے سب مخالف ملک قطر سے تعلقات رکھنے کے شبے تفتیش کی جاسکے تاہم ابھی تک جمال خاشقجی کے قطر سے متعلق کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سی این این نے دعویٰ کیا تھا کہ پیر کے روز ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سعودی حکام جمال خاشقجی کے قونصل خانے میں دوران تفتیش قتل ہونے کا اعتراف کرنے کے لیے رپورٹ تیار کررہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی حکام کی جانب سے تیار کی جانے والی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا جارہا ہے کہ ’دی واشنگٹن پوسٹ‘ کے کالم نگار جمال خاشقجی سے بغیر اجازت تفتیش کی گئی جس دوران وہ ہلاک ہوگئے۔

امریکی خبر رساں ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے ایک ترک اہلکار نے انکشاف کیا کہ واشنگٹن پوسٹ سے منسلک معروف سعودی صحافی کو دو ہفتے قبل ہی قونصل خانے میں قتل کرکے لاش کے ٹکڑے کردئیے گئے تھے۔

خیال رہے کہ جمال خاشقجی کے قتل اور لاش کے ٹکڑے کرنے سے متعلق سی سی این سے قبل امریکی خبر رساں ادارہ نیو یارک ٹائم بھی یہ ہی دعویٰ کرچکا تھا۔

واضح رہے کہ سعودی وزیر داخلہ عبدالعزیز بن سعود نے ریاست پر صحافی کے اغوا اور قتل کے الزامات بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ جلد حقائق منظر عام پر آجائیں گے، جمال خاشقجی کے لاپتا اور قتل کی افواہوں کو سعودی عرب کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے الزامات کو مسترد کیا تھا۔

برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت اور ولی عہد محمد بن سلمان کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنانے والے صحافی جمال خاشقجی 2 اکتوبر کو استنبول میں سعودی سفارت خانے سے لاپتہ ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع ہونے کے بعد جمال خاشقجی خود ساختہ جلا وطنی ہوکر امریکا منتقل ہوگئے تھے جہاں وہ مشہور اخبار واشنگٹن پوسٹ میں صحافتی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں