طالبان ہتھیار پھینک کر مذاکرات کی طرف آئیں، جنرل نکلسن taliban
The news is by your side.

Advertisement

طالبان ہتھیار پھینک کر مذاکرات کی طرف آئیں، جنرل نکلسن

کابل: افغانستان میں تعینات امریکی فوجی کمانڈر جنرل جان نکلسن نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی خطے میں امن قائم کرنے کے لیے ہے، طالبان کو ایک بار پھر امن مذاکرات کی دعوت دیتا ہوں۔

افغان دارالحکومت کابل میں گفتگو کرتے ہوئے جنرل جان نکلسن نے کہا کہ طالبان امریکا سے کبھی بھی جنگ جیت نہیں سکتے اس لیے بہتر ہے کہ وہ ہتھیار پھینک کر امن کے عمل میں شامل ہوجائیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا افغان جنگ کے معاملے میں کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا کیونکہ ہم افغان سرزمین پر امن قائم کرنے کا عزم لیے ہوئے ہیں، ٹرمپ کی نئی پالیسی بھی اسی بات کی غمازی کرتی ہے۔

پڑھیں: شدت پسندوں کی پناہ گاہیں‌ ختم کی جائیں ورنہ کارروائی کریں گے، نیٹو کی دھمکی

امریکی کمانڈر نے کہا کہ پاکستان بھی طالبان کے خلاف اقدامات کرنے اور اُن کی پناہ گاہیں ختم کرنے پر آمادہ ہے اس لیے آج پھر طالبان کو مذاکرات کی دعوت دیتا ہوں، شدت پسندی کرنے والی تنظیمیں اور عناصر امریکا اور اُس کے اتحادیوں سے بچ نہیں پائیں گے۔

جنرل نکلسن نے مزید کہا کہ امریکا اور نیٹو  کے فوجیوں کی تعداد میں جلد اضافہ کیا جائے گا، ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی کی منظوری ہوتے ہی مزید 20 ہزار فوجی افغان سرزمین پر تعینات کردیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کی پاکستان کو دھمکیاں، عالمی میڈیا کی شہ سرخیاں

یاد رہے دو روز قبل امریکی صدر نے نئی افغان پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرتا ہے، امریکی صدر نے کہا کہ اگر پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ کی تو امریکا خود اقدامات کرنے پر مجبور ہوگا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں