The news is by your side.

Advertisement

جنسی حملوں میں ملوث معطل امریکی سپاہی معزز ملازمتیں حاصل نہیں کر پائیں گے

واشنگٹن: جنسی جرائم میں ملوث ہزاروں امریکی فوجیوں کا کہنا پے کہ انہیں بناء کسی ثبوت کے ملوث کیا گیا ہے، وہ اب نہ تو فوجی امور تک رسائی حاصل کر سکیں گے نہ ہی کوئی مراعات حاصل کر پائیں گے، بلکہ وہ کسی بھی “معزز ملازمت” کے اہل نہیں ہوں گے۔

ہیومن رائیٹس واچ نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والے شدید غم و رنج کا شکار ہو جاتے ہیں، جس سے اپ کی شخصیت بکھیر کر رہ جاتی ہے،وہ ذہنی طور اتنے بیمار ہو جاتے ہیں،کہ روزگار کا حصول تو دور کی بات وہ روز مرہ کے معمولی نوعیت کے امور بھی انجام دینے سے قاصر ہوتے ہیں۔

assult-3

امریکی حاکم کی جانب سے کیے گئے فیصلے کی رُر سے برخاست کیے گئے سپاہی نہ تو فوجیوں کو حاصل سہولیات اور مراعات حاصل کر سکیں گے اور نہ ہی وہ کسی دوسرے ادارے میں کسی ’’معزز ملازمت‘‘ کے لیے اہل ہوں گے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں نے اس اقدام کو سراہا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ جنسی زیادتی کرنے والوں کے لیے روزگار کے تمام دروازے بند کرنے وہ معاشرے سے کٹ جائیں گے،اور ایسے لوگ سوسائیٹی کے لیے مزید خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔

assault-1

پینٹاگون کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پچھلے سال فوجی دستوں کی جانب سے 6083 جنسی زیادتی کی شکایات سامنے آئیں،جو گزشتہ سے پیوستہ سال میں پیش آنے والے واقعات کے مساوی ہے،تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ اب خواتین اہلکار اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی شکایت درج کراتی ہیں۔

برخاست کیے گئے فوجی اہلکاروں نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کے کیس میں قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا۔

پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے کہ برخاست کیے گئے اہلکاروں کے ریکارڈز چیک کیے گئے تھے،لہذا برطرفی کے درست یا غلط ہونے پر کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔

ڈیفینس سیکرٹری نے جنسی حملوں میں اضافے کے پیش نظر حکمت عملی مرتب کی،جس کا اعلان کرتے ہوئے کزشتہ ماہ ان کا کہنا تھا کہ بڑھتے ہوئے جنسی زیادتی کے واقعات فوجی اقدار پر کاری ضرب لگانے کے مترادف ہیں،ہر حال میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جائے گی اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں