واشنگٹن (14 فروری 2026): روئٹرز نے ایک رپورٹ میں امریکی عہدیداروں کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ اس بار ایران پر امریکی حملہ وسیع اور کئی ہفتے طویل ہوگا، اور جوہری انفرا اسٹرکچر ہی نہیں ایرانی اسٹیٹ اور سیکیورٹی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔
امریکی فوج اس امکان کے لیے تیاری کر رہی ہے کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر حملے کا حکم دیتے ہیں تو ایران کے خلاف کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی فوجی کارروائیاں کی جا سکتی ہیں۔ یہ صورتِ حال دونوں ممالک کے درمیان ماضی میں دیکھے گئے تنازعات سے کہیں زیادہ سنگین تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
دو امریکی عہدیداروں نے بتایا کہ امریکی فوج ایران کے خلاف مسلسل اور طویل آپریشن کی تیاری میں مصروف ہے، اس مرتبہ حملے کی منصوبہ بندی زیادہ پیچیدہ ہے، مسلسل مہم امریکی افواج اور مشرق وسطیٰ کے لیے زیادہ خطرے کا باعث ہوگی، اور امریکا کو پوری توقع ہے کہ ایران جوابی کارروائی کرے گا۔
امریکی حکام نے جمعہ کو بتایا کہ پینٹاگون مشرقِ وسطیٰ میں ایک اضافی طیارہ بردار بحری جہاز بھیج رہا ہے، جس کے ساتھ ہزاروں مزید فوجی، لڑاکا طیارے، گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر اور دیگر عسکری سازوسامان شامل ہوگا، جو حملے کرنے اور دفاع دونوں کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں بہت بڑی فوج تیار ہے، ٹرمپ کی ایران کو پھر دھمکی
ٹرمپ نے جمعہ کو شمالی کیرولائنا میں ایک فوجی اڈے پر امریکی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا مشکل ثابت ہوا ہے، کبھی کبھی خوف ضروری ہوتا ہے۔ یہی واحد چیز ہے جو واقعی صورتِ حال کو قابو میں لا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال امریکا جب ایرانی جوہری تنصیبات حملے کر رہا تھا تو اس نے خطے میں دو طیارہ بردار بحری جہاز بھیجے تھے، تاہم جون میں کی جانے والی کارروائی ’’مڈنائٹ ہیمر‘‘ ایک محدود نوعیت کا یک طرفہ امریکی حملہ تھا، جس میں اسٹیلتھ بمبار طیارے امریکا سے اڑ کر ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے گئے تھے۔ ایران نے اس کے جواب میں قطر میں ایک امریکی فوجی اڈے پر نہایت محدود جوابی حملہ کر دیا تھا۔
عہدیداروں کے مطابق اس بار جاری منصوبہ بندی کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ ایک عہدیدار نے بتایا کہ اگر کارروائی طویل المدتی مہم کی صورت اختیار کرتی ہے تو امریکی فوج صرف جوہری تنصیبات ہی نہیں بلکہ ایرانی ریاستی اور سیکیورٹی اداروں کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنا سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف ایسی کارروائی میں امریکی افواج کو کہیں زیادہ خطرات لاحق ہوں گے، کیوں کہ ایران کے پاس میزائلوں کا ایک مضبوط ذخیرہ موجود ہے۔ ایرانی جوابی حملے کسی وسیع علاقائی تنازعے کے خطرات کو بھی بڑھا سکتے ہیں۔ اسی عہدیدار نے کہا کہ امریکا کو مکمل توقع ہے کہ ایران جوابی کارروائی کرے گا، جس کے نتیجے میں ایک مدت تک حملوں اور جوابی حملوں کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


