The news is by your side.

Advertisement

امریکہ کی پاکستان کودہشت گردوں کی فنڈنگ کرنےوالے ممالک کی واچ لسٹ میں ڈالنےکی کوشش ناکام

پیرس: پاکستان کا نام واچ لسٹ میں ڈالنے کی کوشش ناکام ہوگئی ، ایف اےٹی ایف میں امریکی قرارداد پراتفاق رائے نہ ہوسکا اور پاکستان کا نام واچ لسٹ میں شامل کرنے کا معاملہ  3ماہ  کیلئے مؤخر ہوگیا۔ قرارداد امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔

تفصیلات کے مطابق امریکا کو ایک بار پھر عالمی برادری کے سامنے منہ کی کھانی پڑی اور پاکستان کا نام واچ لسٹ میں ڈالنے کی کوشش بیکار ہوگئی، ایف اےٹی ایف میں امریکی قرارداد پر اتفاق رائے نہ ہوسکا۔

اس بات کا اعلان وزیر خارجہ خواجہ آصف نے سماجی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیا۔

وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نےٹوئٹ میں کہا کہ ہماری کوششیں رنگ لے آئیں، پاکستان کا نام دہشتگردوں کو مالی امداد دینےو الےملکوں کی فہرست میں ڈالنےکا فیصلہ تین ماہ کیلئےموخرکردیاگیا، نئی رپورٹ آئندہ اجلاس میں جون میں پیش کی جائے گی۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں پاکستان کانام واچ لسٹ میں ڈالنے کی امریکی قرارداد پراتفاق رائےنہ ہوسکا، ایف اے ٹی ایف نے اے پی جی سے ایک اور رپورٹ مانگ لی۔

خواجہ آصف نے تعاون کرنے پر دوست ممالک کا شکر یہ بھی ادا کیا ۔

خیال رہے کہ ایف اے ٹی ایف میں قراردار امریکا اور برطانیہ کی جانب سے پیش کی گئی تھی، اگر قرارداد منظور ہوجاتی تو پاکستان کو عالمی امداد، قرضوں اور سرمایہ کاری کی سخت نگرانی سے گزرنا پڑتا۔

دوسری جانب ترجمان امریکی محکمہ خارجہ ہیدرنوئرٹ نے پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ  دہشتگردوں کی مالی معاونت کرنیوالےممالک واچ لسٹ میں آئینگے،  پاکستان سےمتعلق واچ لسٹ کے معاملے پرابھی تبصرہ نہیں کرسکتے، ایف اے ٹی ایف پاکستان سے متعلق معاملات کا جائزہ لے رہی ہے۔


مزید پڑھیں :  ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کا نام واچ لسٹ میں ڈالنے کے لیے سرگرم


یاد رہے کہپاکستان کی 2 ارب ڈالرز کی امداد معطل کرنے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کا نام دہشت گردوں کو مالی معاونت کرنے والے ملکوں کی واچ لسٹ میں شامل کروانے کے لیے سرگرم تھی۔

ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا تھا  کہ آئندہ ہفتے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں پاکستان کے خلاف تحریک پیش کی جائے گی، جس میں پاکستان کو واچ لسٹ میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں