ڈیٹرائٹ (14 جنوری 2026): ڈونلڈ ٹرمپ نے تارکین وطن کو ڈرانے کے لیے ایک اور اعلان کر دیا ہے، جس کے مطابق امریکیوں کو دھوکا دینے والے تارکین کی شہریت منسوخ ہوگی۔
روئٹرز کے مطابق امریکی صدر نے کہا کہ ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے جا رہے ہیں جنھوں نے ہمارے شہریوں کو دھوکا دیا ہو اور اس میں انھیں سزا ہوئی ہو، ایسے لوگوں کی شہریت منسوخ کر دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ڈیٹرائٹ اکنامک کلب میں ایک تقریر میں کہا کہ اُن کی انتظامیہ صومالیہ یا کسی بھی دوسرے ملک سے تعلق رکھنے والے ایسے تارکین وطن کی شہریت منسوخ کرنے جا رہی ہے جنھوں نے ’ہمارے کسی شہری کو دھوکا دیا ہو۔‘
انھوں نے کہا ’’اگر آپ امریکیوں کو لوٹنے کے لیے امریکا آتے ہیں، تو ہم آپ کو جیل میں ڈال دیں گے، اور ہم آپ کو اس جگہ واپس بھیج دیں گے جہاں سے آپ آئے تھے۔ ہاں ہم آپ کو بالکل جیل میں ڈالیں گے۔‘‘
یہ بیانات منیسوٹا کے شہر منیاپولس میں صومالی نژاد امریکی کمیونٹی پر تازہ ترین حملے کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں ٹرمپ نے اپنی ملک بدری (ڈی پورٹیشن) مہم کو تیز کر دیا ہے۔ منیاپولس امریکا کے وسط مغربی خطے کا ایک شہر ہے جہاں صومالی برادری کی بڑی تعداد آباد ہے۔
یہ کریک ڈاؤن اس وقت سامنے آیا جب ایک دائیں بازو کے سوشل میڈیا اثر و رسوخ رکھنے والے شخص (رائٹ وِنگ انفلوئنسر) نے بغیر کسی ثبوت کے یہ دعویٰ کیا کہ منیاپولس میں رہنے والے صومالی باشندے سرکاری طور پر سبسڈی یافتہ ڈے کیئر مراکز سے متعلق بڑے پیمانے پر دھوکا دہی میں ملوث ہیں۔ ان الزامات کی تحقیقات ابھی جاری ہیں، تاہم اس کے باوجود ٹرمپ نے ڈیموکریٹک قیادت والی پانچ ریاستوں کو وفاقی سطح پر بچوں کی نگہداشت کی ادائیگیاں روک دی ہیں۔
کیلیفورنیا، کولوراڈو، الینوائے، منیسوٹا اور نیویارک کی ریاستوں نے اس کے خلاف مقدمہ دائر کیا، جس پر گزشتہ جمعے کو ایک وفاقی جج نے ٹرمپ کے اس حکم نامے پر عارضی پابندی عائد کرنے کا حکم دیا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


