The news is by your side.

Advertisement

امریکی بحریہ کے سربراہ کو عہدے سے برطرف کردیا گیا

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے شدید تنازعے کے بعد امریکی بحریہ کے سربراہ رچرڈ اسپنسر کو عہدے سے فارغ کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی نیوی کے افسر ایڈورڈ گلیگر کی ایک تصویر سامنے آئی تھی جس میں وہ داعش کے ہلاک شدت پسند کے ساتھ کھڑے تھے، جس کے بعد ٹرمپ اور نیوی سربراہ کے درمیان تنازعہ کھڑا ہوگیا۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی وزیرِ دفاع مارک ایسپر نے عراق میں تعینات فوجی افسر کے تنازعے اور امریکی صدر سے مخالفت پر بحری سربراہ رچرڈ اسپنسر کو عہدے سے ہٹا دیا۔

امریکی نیوی افسر ایڈورڈ گلیگر کو داعش کے 17 سالہ نہتے قیدی کو قتل کرنے اور اس کی لاش کے ساتھ تصاویر بنانے کے مقدمے کا سامنا تھا، اس معاملے پر امریکی صدر نے مداخلت کرتے ہوئے ایڈورڈ گلیگر کی حمایت کی جس کے ردعمل میں نیول چیف رچرڈ اسپنسر نے ٹرمپ کے خلاف بیان داغا اور کہا ٹرمپ کیس میں مداخلت سے گریز کریں۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ٹرمپ ملیٹری کیسز میں مداخلت کررہے ہیں، انہیں نظم وضبط کی سمجھ بوجھ نہیں ہے۔ رچرڈ اسپنسر کے مطابق کسی بھی شدت پسند کے ساتھ اس طرح تصویر بنانا فوجی قوائد وضوابط کی خلاف ورزی ہے جس پر ایڈورڈ گلیگر کی تنزلی کی گئی تھی۔

وزیردفاع کا بیان میں کہنا تھا کہ نیوی کے سربراہ نے ذاتی طور پر وائٹ ہاؤس سے رابطہ بھی کیا، نیول چیف اپنا اعتماد کھوچکے ہیں۔ جبکہ فوج کے بعض حلقے جنگی جرائم کے مرتکب سزا یافتہ آفیسر کو معاف کرنے پر صدرٹرمپ پر شدید تنقید کررہے ہیں۔

بحری افسر کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کھل کر سامنے آئے اور نیوی افسر کی حمایت کی، بعد ازاں ٹرمپ نے ایڈورڈ گلیگر کو گزشتہ ہفتے دوبارہ عہدے پر بحال کر دیا تھا، اور اب نیول چیف کو فارغ کردیا گیا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں