جی سیون ممالک کا اجلاس ہوا تو اس میں امریکی صدر ٹرمپ کی موجودگی کو نریندر مودی نے اپنے لیے ایک موقع سمجھا اور ٹرمپ سے راہ و رسم بڑھانے کی کوشش کرتے نظر آئے۔ جب وہ ٹرمپ کی توجہ سمیٹنے کی کوشش کررہے تھے تو عین اسی وقت امریکا میں ایک بڑا اعلان ہوا۔ ٹرمپ سرکار کی جانب سے ایشیائی خطّے میں تعنیات فوج کی کمانڈ کا نام انڈو پیسفک کمانڈ سے تبدیل کر کے دوبارہ یو ایس پیسفک کمانڈ کر دیا گیا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے سال 2018ء میں اس کمانڈ کا نام میں تبدیل کیا تھا جو یہ باور کرانے کی کوشش تھی کہ بھارت ایشیائی پیسفک خطّے کی عسکری پالیسی سازی میں مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔ لیکن اب نام کی تبدیلی اس بات کا اشارہ ہے کہ خطّے میں بھارت کو دی جانے والی عسکری، سیاسی اور سفارتی اہمیت اب ختم ہوچکی ہے اور امریکا اسے اپنے ایک عام اتحادی کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ گویا ٹرمپ کی مودی سے بے رخی اور سرد مہری اتفاقی نہیں بلکہ امریکی پالیسی میں ایک گہری تبدیلی کا اشارہ ہے۔
اس تحریر میں ہم صدر ٹرمپ اور نریندر مودی کے درمیان فرانس میں ملاقات پر تبصرے کے ساتھ خطّے میں امریکی افواج کی کمانڈ کے نام کی تبدیلی کا جائزہ لیں گے جو ماہرینِ سیاسیات کی نظر میں اہمیت اختیار کرگیا ہے۔
فرانس میں جی سیون ملکوں کی بیٹھک کے موقع پر سائیڈ لائن پر صدر ٹرمپ اور نریندرمودی کی ملاقات کے دوران سامنے آنے والا یہ اعلان اور چند واقعات امریکا اور بھارت کے مستقبل میں تعلقات کا نقشہ بھی کھینچتے ہیں۔ اس ملاقات میں صدر ٹرمپ کی جانب سے سرد مہری کا مظاہرہ اور نریندر مودی کا بجھا ہوا چہرہ اور پرچی پکڑ کر نپے تلے انداز میں انگریزی کے بجائے ہندی میں اپنا مؤقف پیش کرنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے اور بہت سی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ملاقات کے دوران نریندر مودی اور صدر ٹرمپ کے درمیان وہ روایتی گرم جوشی نظر نہیں جو صدر ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں نظر آتی تھی۔ اگر اس دور میں گرم جوشی کا مظاہرہ اور دوستانہ مراسم کی شبیہ آپ کے ذہن کے پردے پر نہیں ابھر رہی ہو تو گوگل سرچ اور سوشل میڈیا کا سہارا لے سکتے ہیں جو اس دور کی کئی تصویروں اور خبر رساں اداروں کی رپورٹوں سے بھرا پڑا ہے جن میں کئی ویڈیوز بھی دیکھنے کو مل جائیں گی۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ایک موقع پر کس طرح صدر ٹرمپ اور نریندر مودی ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے انتخابی ریلی میں پہنچے اور ایک دوسرے کی تعریف میں زمین آسمان ایک کر دیا تھا۔ لگتا تھا کہ بھارت کو امریکا کی ایک اور ریاست ہی نہ قرار نہ دے دیا جائے۔
حالیہ ملاقات نے مودی کے ان بھگتوں اور "گودی میڈیا” کی خواہشات پر پانی پھیر دیا ہے جو یہ سمجھتے تھے کہ ان کے مودی جی بھارتی سیلرز کی آبنائے ہرمز میں امریکی حملے میں ہلاکتوں کے علاوہ امریکا میں بھارتیوں سے ناروا سلوک کا معاملہ بھی اٹھائیں گے۔ مگر مودی براہ راست امریکی صدر کو نہیں کہہ سکے کہ آپ نے ہمارے تین سی فیریئرز کو مار دیا ہے۔ گھما پھرا کر کچھ بولے تو وہ بھی دبے دبے انداز میں اور محتاط رہ کر کہ کہیں صدر ٹرمپ ناراض نہ ہوجائیں۔
نریندر مودی نے جس صدر ٹرمپ کے لیے امریکا میں مقیم بھارتیوں کے ووٹوں کا دروازہ کھولا تھا۔ امریکی صدر نے انہی کو باہر کا راستہ دکھا دیا ہے۔ اور اب عسکری میدان میں بھی بھارت کی اہمیت کو تقریباً ختم کر دیا گیا ہے۔
2018ء میں فوجی کمانڈ کے نام کی تبدیلی کے وقت صدر ٹرمپ نے پاکستان کے خلاف بھی سخت زبان استعمال کی تھی۔ پاکستانی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے دی جانے والی امریکی امداد پر سوالات بھی اٹھائے تھے۔ اس وقت آئی بی اے میں ایک سیمینار میں پاکستان کی سابق سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے پالیسی میں تبدیلی پر کہا تھا کہ امریکا خطّے میں بھارت کے کردار کو بڑھانے کا خواہاں ہے اور وہ اسے چین کے خلاف ایک بڑی عسکری اور معاشی قوت بنانے کا خواہش مند ہے۔ صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس چھوڑا تو ڈیمو کریٹ، جوبائیڈن صدر بن گئے اور پالیسی کا تسلسل برقرار رکھا جس نے بھارتی معیشت کو مضبوط کیا اور مودی سرکار کے پیر مزید جم گئے۔ مگر امریکا کے لیے اسٹریٹجک اہمیت کا حامل بھارت مطالبات کے باوجود غیر ملکی کمپنیوں خصوصاً امریکی کمپنیوں اور مصنوعات کے لیے اپنی مارکیٹ کھولنے پر تیار نہ ہوا۔ امریکی حکام بھی عسکری مقاصد کے پیشِ نظر بھارت کو تجارتی مراعات دیتے رہے۔ اس وقت خطّے میں بھارت کو اہم مقام دینے کے لیے اس کمانڈ کا نام انڈو پیسفک کیا گیا تھا۔ امریکا کا خیال تھا کہ اب اسے طویل فاصلہ طے کر کے اپنی بحری فوج کو اس خطّے میں تعینات نہیں کرنا پڑے گا۔ اور بھارت اس خطّے میں یہ کردار ادا کرے گا۔ اس مقصد کے لیے بھارتی نیوی کے مہنگے ترین دو طیارہ بردار بحری جہاز بھی اپنے بیڑے میں شامل کیے۔ مگر اب امریکی فوجی کمانڈ کا نام ہی نہیں تبدیل ہوا ہے بلکہ کچھ ایسا بھی ہوا ہے جس پر بھارت مزید تلملا اٹھا ہے۔ اس تبدیلی کے ساتھ امریکا نے ایک علاقائی نقشہ جاری کیا ہے جس میں اس نے آزاد کشمیر کو پاکستان کا حصّہ دکھایا ہے۔ یہ امریکا کی طرف سے بھارت کو ایک خاموش پیغام ہے کہ وہ کشمیر کے تنازع پر بھارتی مؤقف کو تسلیم نہیں کرتا۔
بھارت خطّے میں پاکستان اور چین کو اپنا حریف تصور کرتا ہے اور اسی بنیاد پر وہ اپنی عسکری داخلی اور خارجہ پالیسی کو مرتب کرتا ہے۔ مگر بھارت کو پہلے چین اور پھر پاکستان سے جنگ میں وہ شکست ہوئی جس کے بعد عالمی سیاسی ہی نہیں بلکہ سفارتی سطح پر بھی ماحول یکسر تبدیل ہوگیا ہے۔ اور یہی دو بنیادی عسکری تنازعات تھے جس نے امریکا کو بھارت سے فاصلہ بڑھانے اور خطّے میں اس کی حیثیت یا کردار کو گھٹانے کی ترغیب دی۔
امریکی حکام کی سوچ میں یہ تبدیلی کیوں آئی؟ اس کی وجہ بھارت کی عسکری میدان میں مسلسل ناکامیاں اور شکست ہے۔ امریکی قیادت یہ سمجھ رہی ہے بھارتی مسلح افواج خطّے میں کسی بڑی عسکری کمانڈ کی اہل نہیں ہیں۔
ادھر کشمیر پر صرف بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازع نہیں ہے۔ اس میں چین بھی ایک فریق ہے اور بھارت کے زیرِ قبضہ علاقے لداخ کو اپنا حصّہ تصور کرتا ہے۔ اکسائی چن، ارونا چل پردیش اور تبت کے علاقوں کا بھی یہی معاملہ ہے۔ 1962ء کی لڑائی کے بعد اس علاقے کا 38000 کلو میٹر رقبہ چین کے زیرِ انتظام ہے۔ 2020ء میں اس خطّے میں عسکری تناؤ بہت زیادہ بڑھ گیا تھا۔ چین کی پیپلز لبریشن آرمی نے مزید 14700 کلو میٹر رقبے پر قبضہ کر لیا تھا۔
بھارت اور چین کے درمیان یہ فوجی تصادم بھارتی سیاست دانوں کی بزدلی اور مسلح افواج کے جنگ کے لیے پُر عزم نہ ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔ بھارت کے سابق آرمی چیف جنرل منوج مُکند نروانے کی ایک کتاب کی اشاعت اس لیے روک دی گئی ہے کہ اس میں مصنف نے اکسائی چین میں ہونے والی اس فوجی جھڑپ کا حال بھی لکھا ہے۔ مگر اس تصنیف کے چند اہم اقتباسات کانگریس پارٹی نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری کر دیے ہیں۔ گلوان ویلی میں ہونے والی ان جھڑپوں میں بھارتی کرنل سمیت 20 فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ اور چین نے 14,700 مربع میل کے علاقے پر قبضہ بھی کر لیا تھا۔ سوشل میڈیا اور دوسرے ذرایع بھارتی اپوزیشن لیڈروں کی اس فوجی پسپائی یا عسکری ناکامی پر تنقید اور جنرل منوج مُکند نروانے کی کتاب کے اقتباسات کو بنیاد بنا کر لکھتے ہیں کہ مکند نروانے کی کتاب بتاتی ہے کہ اطلاع ملنے پر کہ چینی ٹینک مشرقی لداخ میں پیش قدمی کر رہے ہیں، انڈین فوج نے انھیں خبردار کیا اور پیش قدمی سے باز رہنے کو کہا، مگر وہ آگے بڑھتے چلے گئے۔ انڈین آرمی چیف کے مطابق یہ دیکھتے ہوئے ملک کی سیاسی قیادت سے احکامات کے لیے متعدد مرتبہ رابطہ کیا، مگر دلّی میں خاموشی چھائی رہی۔ اور پھر دو گھنٹے کے طویل اور صبر آزما انتظار کے بعد جواب ملا کہ جو مناسب سمجھیں وہ کریں۔ اس پر جنرل نروانے بھی جنگ کو ٹالنے کی کوشش کرتے رہے اور جوابی کارروائی سے گریز کیا۔ یہی نہیں بلکہ کچھ وقت کے بعد شمالی کمانڈ کو حکم دیا کہ چینی ٹینکوں کو آگے آنے دیں۔ یعنی وہ چینی فوج سے لڑائی کے لیے تیار نہ تھے۔
یہ وہ پہلا معاملہ تھا جب امریکا کو لگا کہ بھارت کی عسکری طاقت چین کا مقابلہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔ بھارت نے امریکیوں پر واضح کیا کہ چین کئی گنا بڑی طاقت ہے اور کورونا کی وبا کے بعد لاک ڈاؤن میں جنگ کرنا ایک مشکل کام ہے۔ بھارت نے اپنی اس سبکی کو مٹانے کے لیے پاکستان کے ساتھ دو مرتبہ معرکہ آرئی کی اور اس میں اس کو مزید خفّت اٹھانا پڑی۔
انڈین اسٹیبلشمنٹ پہلے فالس فلیگ آپریشن کرتی ہے اور پھر اس کا الزام پاکستان پر عائد کر دیتی ہے۔ ایسا ہی پلوامہ حملے کے بعد کیا گیا تھا اور پھر اپنی مسلح افواج کو بھارت نے اس ہزیمت میں دھکیل دیا جس سے وہ ابھی تک نہیں نکل پائی ہے۔ پلوامہ واقعے کے بعد انڈیا نے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا واویلا کر کے رات کے اندھیرے میں اپنے طیارے بھیجے جو پے لوڈ گرا کر چلے گئے مگر پاکستان نے 27 فروری 2019ء کو دن کی روشنی میں جو جواب دیا وہ عسکری طور پر بہت منظّم اور جارحانہ تھا۔ پاکستانی لڑاکا طیاروں نے اپنی سرحد میں رہتے ہوئے پہلے بھارتی مسلح افواج کے تمام بڑے فوجی ٹھکانوں کو لاک کیا اور انڈین ریڈارز کو جام کر دیا۔ جواب میں بھارت کے دو لڑاکا طیارے پاکستانی فضائیہ نے مار گرائے اور ایک پائلٹ ابھینندن گرفتار ہوا۔ مگر خود فرینڈلی فائر میں انڈین ایئر ڈیفنس نے اپنا ہی فوجی ہیلی کاپٹر مار گرایا جس سے متعدد فوجی مارے گئے۔ اس جھڑپ نے بھارت اور دنیا کو یہ بتا دیا کہ پاکستان سے لڑائی بہت مشکل ہے۔ بھارت نے اس موقع پر اپنی خفّت مٹانے کو کہا کہ ان کے پاس رافیل جیسے جدید طیارے ہوتے تو پاکستان کو سبق سکھا دیتے۔ پھر گزشتہ سال پہلگام واقعے کے بعد پاکستان کے خلاف بیانیہ بنانے کی کوشش کی مگر شواہد دنیا کے سامنے نہیں لا سکا اور پھر پاکستان پر فضائی حملہ کردیا جس کے بعد بھارت کا تماشا دنیا نے دیکھا اور اس کی رسوائی تاریخ کا حصّہ بن گئی۔ اس جنگ میں پاکستان کی فتح اور عسکری برتری کے ساتھ بھارت کی ناکامی کا سب سے زیادہ چرچا صدر ٹرمپ نے کیا۔ اس سے قبل پاکستانی قیادت اور صدر ٹرمپ کی شناسائی نہ ہونے کے برابر تھی اور کوئی براہ راست ملاقات شہباز شریف اور صدر ٹرمپ کے درمیان نہیں ہوئی تھی۔ مگر آج نہ صرف صدر ٹرمپ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کرتے ہیں بلکہ ان سے ملاقاتوں کے بعد میڈیا کے سامنے عالمی امن کے لیے پاکستان کے کردار اور ملک کی قیادت کی سنجیدہ کاوشوں کو سراہتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ امریکا اور پاکستان کے درمیان ایسی دوستی اور سازگار فضا بن گئی ہے جو حالیہ دنوں میں امریکا ایران کو مذاکرات کی میز تک لانے میں معاون ثابت ہوئی ہے۔ دوسری طرف بھارت تیزی سے عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہورہا ہے اور سفارتی محاذ پر اسے اپنا آپ منوانے اور اپنی اہمیت جتانے میں ناکامی کا سامنا ہے۔


