واشنگٹن : امریکا نے روس سے تیل اور یورینیم خریدنے والے ممالک پرپانچ سوفیصد ٹیرف لگانے کی تیاری شروع کردی، بل پر ممکنہ طور پر اگلے ہفتے ووٹنگ متوقع ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکا نے روس کی معیشت کو مفلوج کرنے کے لیے سخت ترین پابندیوں کی تیاری کر لی ہے۔
ری پبلکن سینیٹر اور دفاعی امور کے اہم رہنما لنڈسے گراہم نے انکشاف کیا ہے کہ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی پابندیوں سے متعلق ایک اہم بل کی منظوری کا اشارہ دے دیا ہے۔
سینیٹر لنڈسے گراہم نے امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس بل کے تحت روس سے تجارت کرنے والے ممالک، خاص طور پر بھارت، چین اور برازیل کو بھاری ٹیرف کی صورت میں سزا دی جائے گی۔
بل منظور ہونے کی صورت میں ان ممالک پر 500 فیصد تک ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے جو روس سے تیل یا یورینیم خریدنا جاری رکھیں گے۔
سینیٹر گراہم نے وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کی، جس میں صدر نے اس بل کی مکمل حمایت ظاہر کی جو گزشتہ کئی ماہ سے زیرِ غور تھا، اس بل پر ممکنہ طور پر اگلے ہفتے ووٹنگ متوقع ہے۔
ان پابندیوں کا بنیادی مقصد ماسکو کی معیشت کو کاری ضرب لگانا اور روسی جنگی مشینری کے لیے فنڈز کی فراہمی روکنا ہے۔
اگر یہ بل قانون بن جاتا ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور روس کے بڑے تجارتی شراکت داروں (بھارت اور چین) کے ساتھ امریکہ کے تعلقات پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
سینیٹر گراہم کا کہنا تھا کہ امریکہ اب ان ممالک کو مزید رعایت دینے کے حق میں نہیں ہے جو روسی توانائی کے شعبے کو سہارا دے رہے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


