تہران : امریکا نے ایران کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے پانچ سخت شرائط پیش کر دیں، جس میں جنگی نقصانات پر کسی قسم کا ہرجانہ دینے سے انکار کردیا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری شدید کشیدگی کے دوران مذاکرات کی بحالی کے لیے دونوں ممالک کی جانب سے 5، 5 انتہائی سخت شرائط سامنے آئی ہیں۔
ایرانی میڈیا نے بتایا کہ واشنگٹن نے مذاکرات شروع کرنے کے لیے جہاں کڑے مطالبات رکھے ہیں، وہیں تہران نے بھی ان کے جواب میں اپنی شرائط کی فہرست پیش کر دی ہے۔
امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی 5 اہم شرائط سامنے آئی ، جس میں کہا گیا کہ ایران کو اپنا 400 کلو گرام افزودہ یورینیم امریکہ یا عالمی برادری کے حوالے کرنا ہوگا اور معاہدے کے تحت ایران کی صرف ایک ایٹمی تنصیب فعال رہے گی، جبکہ باقی بند کرنی ہوں گی۔
اس کے علاوہ غیر ممالک میں موجود ایران کے منجمد اثاثوں کا 25 فیصد حصہ کسی صورت بحال نہیں کیا جائے گا جبکہ امریکہ نے حالیہ کشیدگی اور جنگی نقصانات پر ایران کو کسی بھی قسم کا معاوضہ یا ہرجانہ دینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
شرائط میں خطے کے تمام محاذوں پر مکمل اور فوری جنگ بندی کو مذاکرات کے باقاعدہ آغاز سے مشروط کیا گیا ہے۔
ایران کی جانب سے عائد کردہ 5 جوابی شرائط
دوسری جانب تہران نے امریکی مطالبات کو تسلیم کرنے کے بجائے اپنی 5 جوابی شرائط سامنے رکھ دی ہیں، جن میںلبنان سمیت تمام علاقائی محاذوں پر جاری جنگ کا فوری اور مستقل خاتمہ، ایران پر عائد تمام معاشی اور سفارتی پابندیوں کو مکمل طور پر ختم کیا جائے شامل ہیں۔
اس کے علاوہ بیرونی بینکوں میں موجود ایران کے تمام منجمد اثاثے بلا تاخیر واپس کیے جائیں جبکہ حالیہ تنازعات میں ہونے والے تمام جنگی نقصانات کا پورا معاوضہ اور ہرجانہ ادا کیا جائے۔
جوابی شرائط میں کہا گیا کہ تزویراتی طور پر انتہائی اہم تجارتی گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ پر ایران کے حقِ خود مختاری کو تسلیم کیا جائے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی ان سخت شرائط کے بعد خطے میں جاری بحران کے فوری حل اور مذاکرات کی میز پر واپسی کے امکانات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


