واشنگٹن : معروف اسرائیلی صحافی باراک رویڈ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر ممکنہ فوجی حملے سے اچانک پیچھے ہٹنے کی اندرونی کہانی بتادی۔
تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر ممکنہ فوجی حملے سے اچانک پیچھے ہٹنے کی اندرونی اور سنسنی خیز کہانی سامنے آ گئی۔
امریکی نشریاتی ادارے سے منسلک معروف اسرائیلی صحافی باراک رویڈ نے امریکی ذرائع کے حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (ٹویٹر) پر دعویٰ کیا ہے کہ یہ فیصلہ خلیجی ممالک کے شدید دباؤ اور مشترکہ موقف کے بعد کیا گیا۔
اسرائیلی صحافی باراک رویڈ کا کہنا تھا کہپ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے سربراہان سے مسلسل 24 گھنٹے تک ٹیلی فونک رابطے کیے۔ ان رابطوں کے دوران ریاض، دوحہ اور ابوظہبی نے امریکی صدر کو ایک سخت اور مشترکہ پیغام پہنچایا کہ "اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو اس جنگ کی اصل قیمت امریکہ کو نہیں، بلکہ ہمیں (خلیجی ممالک کو) چکانا پڑے گی۔”
تینوں خلیجی ممالک نے صدر ٹرمپ پر زبردست دباؤ ڈالا کہ وہ فوجی طاقت کا استعمال کرنے کے بجائے سفارت کاری اور تجدیدِ مذاکرات کو ایک موقع دیں۔
رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے خلیجی ممالک کی اس سخت تشویش کے بعد وائٹ ہاؤس میں ایران پر حملے کے حامی اپنے جنگجو ساتھیوں اور مشیروں کو صورتحال سے آگاہ کیا۔
ٹرمپ نے اپنے مشیروں کو صاف بتایا کہ سعودی عرب، قطر اور امارات کسی بھی صورت ایران کے ممکنہ جوابی ردِعمل میں اپنی آئل اینڈ انرجی (تیل اور توانائی) کی تنصیبات کی تباہی نہیں چاہتے۔
خلیجی ممالک کو خدشہ تھا کہ جنگ شروع ہوتے ہی ایران ان کے معاشی ستونوں کو نشانہ بنائے گا، جس سے پورا خطہ تباہی کی طرف چلا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں کی خواہش کے برعکس ایران پر حملے کا ارادہ ترک کیا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


