واشنگٹن : امریکی صدر ٹرمپ نے روسی صدر پیوٹن کی ایرانی یورینیم روس منتقل کرنے کی پیشکش مسترد کر دی۔
تفصیلات کے مطابق امریکی ویب سائٹ ‘ایگزیوس’ نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے ایرانی افزودہ یورینیم روس منتقل کرنے کی تجویز کو ایک بار پھر مسترد کر دیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ روسی صدر پیوٹن نے صدر ٹرمپ کو فون کیا اور ایک نئی تجویز پیش کی جس کے تحت ایران کا 60 فیصد افزودہ یورینیم روس منتقل کر دیا جائے، اس اقدام کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے خطرے کو ختم کرنا ہے۔
ایگزیوس کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران کے پاس اس وقت تقریباً 450 کلوگرام افزودہ یورینیم موجود ہے، جس میں 10 سے زائد جوہری بم بنانے کی صلاحیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی یورینیم کے یہ ذخائر امریکہ اور اسرائیل کے اہم اہداف میں شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ پیشکش پہلی بار نہیں کی گئی، روس ماضی میں بھی ایسی تجویز دے چکا ہے لیکن امریکہ نے اسے ہمیشہ مسترد کیا ہے۔
واشنگٹن کا موقف ہے کہ یورینیم کی محض منتقلی مستقل حل نہیں ہے اور ایران کو جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت سے مکمل طور پر روکنے کے لیے مزید سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


