پاکستان کی مدد کےبغیرخطے میں مفادات حاصل نہیں کئے جاسکتے، امریکی پروفیسر
The news is by your side.

Advertisement

پاکستان کی مدد کےبغیرخطے میں مفادات حاصل نہیں کئے جاسکتے، امریکی پروفیسر

واشنگٹن : امریکی صدر کوغلط پالیسیوں پراپنے ملک میں بھی کڑی تنقید کا سامنا ہے ، جارج میسن یونیورسٹی کے پروفیسر جیمز وٹ کا کہنا ہے پاکستان کی مدد کےبغیرخطے میں مفادات حاصل نہیں کئے جاسکتے، ٹرمپ نےجنوبی ایشیا میں اہم پارٹنرشپ کونقصان پہنچایا۔

تفصیلات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلسل نا معقول فیصلوں کے باعث امریکا میں اپنے صدر کے خلاف آوازیں اٹھنے والی آوازیں بڑھنے لگیں، پاکستان کے خلاف حالیہ اقدامات پر جارج میسن یونیورسٹی میں امیگریشن ریسرچ کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ صدرٹرمپ نے جنوبی ایشیا میں پاکستان کے ساتھ اہم پارٹنرشپ کونقصان پہنچایا۔

امریکی صدر کے لاابالی پن پر پروفیسر جیمز نے کہا صدرٹرمپ کو اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے دوسروں کی پرواہ نہیں ہوتی۔

امریکی یونی ورسٹی کے پروفیسر نے مزید کہا کہ صدرٹرمپ کا رویہ کسی طورپربھی سفارتی نہیں، سفارتی تعلقات کو ٹوئٹر پر چلانا سفارتی آداب کیخلاف ہے

پروفیسر جیمز وٹ کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کو اپنا رویہ اور زبان محتاط انداز میں استعمال کرنی چاہیے ، پاک امریکہ کشیدہ تعلقات کسی کےمفادمیں نہیں،پاکستان کی مدد کےبغیرخطے میں مفادات حاصل نہیں کئے جاسکتے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا نے گزشتہ15سال میں33ارب ڈالرز پاکستان کو دے کر بے وقوفی کی، پاکستان امریکہ کو ہمیشہ دھوکہ دیتا آیا ہے، پاکستان نے امداد کے بدلے امریکہ کو بے وقوف بنانے کے بجائے کچھ نہیں کیا۔


مزید پڑھیں : ہم نے امداد دی، پاکستان نے دھوکا دیا، اب ایسا نہیں ہوگا: امریکی صدر


امریکی صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان ان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا ہے جنہیں ہم افغانستان میں تلاش کررہے ہیں، امداد وصول کرنے کے باوجود پاکستان نے امریکا سے جھوٹ بولا لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں