The news is by your side.

Advertisement

ٹرمپ کو صدر نہیں مانتے، امریکا میں ٹرمپ کے خلاف مظاہرے جاری

واشنگٹن: امریکا میں نومنتخب صدرڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ رک نہ سکا، واشنگٹن میں طلباء نےٹرمپ کےخلاف ریلی نکالی، اوباما نے عوام کوٹرمپ کی جیت کو تسلیم کرنے کا مشورہ دے دیا ہے۔

امریکی انتخابات میں متنازع ڈونلڈٹرمپ کی جیت کے بعد امریکی تاریخ کے بدترین مظاہرے پھوٹ پڑے، امریکا کی مختلف ریاستوں میں احتجاجی مظاہرے جاری ہے، واشنگٹن میں طلبا نے احتجاجی ریلی نکالی اورٹرمپ نامنظور کے نعرے لگائے جبکہ نیویارک کی دیواروں پرٹرمپ مخالف نعرے لکھ کر احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔

trump-protest-1

trump-protest3

پورٹ لینڈ، لاس اینجلس، آئیوا، میزوری سمیت متعدد شہروں میں مظاہرے جاری ہیں، مظاہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی انتہا پسندانہ پالیسیاں مسترد کرتے ہیں۔

trump-protest-2

لاس اینجلس اور سیاٹل کی سڑکوں پر اسکول کے طلبا نے مارچ کیا اور ٹرمپ کیخلاف نعرے لگائے۔

دوسری جانب ٹرمپ کے ساتھ ان کی فیملی بھی متنازع ہوگئی ہے، سابق ماڈل اور خاتون اول منیلا ٹرمپ کی غیر اخلاقی تصویروں پر امریکی عوام مشتعل ہیں، واشنگٹن ڈی سی میں ٹرمپ ہوٹل کے باہر اسکول کے بچوں نے منیلا ٹرمپ کے خلاف بھی مظاہرہ کیا۔

trump-protest-4

ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد کیلی فورنیا میں علیحدگی کی تحریک شروع ہوچکی ہے، الگ ملک کیلئے ریفرنڈم کا اعلان بھی ہوچکا ہے۔


مزید پڑھیں : ٹرمپ کو ووٹ نہ دینے والے سمجھ لیں یہی جمہوریت ہے،اب ٹرمپ ملک کے صدر ہیں، اوباما


یاد رہے کہ براک اوباما کا کہنا تھا کہ لوگوں نے فیصلہ دے دیا، اب ٹرمپ ملک کے صدر ہیں انہیں قبول کیا جائے،جنہوں نے ٹرمپ کو ووٹ نہیں دیا انہیں سمجھ لینا چاہیئے کہ جمہوریت اسی کا نام ہے۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی میڈیا کو انٹرویو میں کہا تھا کہ تیس لاکھ غیرقانونی تارکین وطن کوملک بدر کیا جائے گا یا پھرجیلوں میں ڈالا جائے گا، امریکا میں تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ غیررجسٹرڈ تارکین وطن موجود ہیں، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق میکسیکو سے ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں