واشنگٹن(29 جنوری 2026): امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران میں رجیم کی تبدیلی وینزویلا کے مقابلے میں "کہیں زیادہ پیچیدہ” ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کی سماعت میں وینزویلا کے موضوع پر قانون سازوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا "میں تصور کرتا ہوں کہ یہ اس سے بھی کہیں زیادہ پیچیدہ ہوگی جس کا ہم ابھی ذکر کر رہے ہیں، کیونکہ آپ ایک ایسی رجیم کی بات کر رہے ہیں جو بہت طویل عرصے سے قائم ہے۔”
روبیو نے مزید کہا کہ "اگر کبھی ایسی صورتحال پیدا ہوئی تو اس کے لیے بہت احتیاط اور غور و فکر کی ضرورت ہوگی، کیونکہ کوئی نہیں جانتا کہ اگر سپریم لیڈر کو ہٹا دیا گیا تو کون اقتدار سنبھالے گا۔
مارکو روبیو نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی کو بنیادی طور پر دفاعی قرار دیا اور بتایا کہ تقریباً 30,000 سے 40,000 امریکی فوجی آٹھ یا نو تنصیبات پر تعینات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ افواج ہزاروں ایرانی بغیر پائلٹ کے طیاروں (یو اے ویز) اور مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کی رسائی میں ہیں، جس سے امریکی فوجیوں اور علاقائی اتحادیوں پر ممکنہ حملے سے پہلے ہی روک دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ مارکو روبیو کے یہ بیانات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بعد سامنے آئے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کی طرف "بہت بڑا بحری بیڑا” جا رہا ہے اور امید ظاہر کی کہ تہران مذاکرات کے لیے "میز پر آئے گا”۔
ایران میں 28 دسمبر سے تہران کے گرینڈ بازار میں ایرانی ریال کی شدید قدر میں کمی اور معاشی حالات کی خرابی کی وجہ سے مظاہروں کی لہریں اٹھی ہیں جو بعد میں کئی شہروں تک پھیل گئیں۔
ایرانی حکام نے امریکا اور اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ ” فسادیوں” کی حمایت کر رہے ہیں تاکہ غیر ملکی مداخلت کا بہانہ بنایا جا سکے لیکن ساتھ ہی ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کا کوئی حملہ "تیز اور جامع” جواب کا باعث بنے گا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


