واشنگٹن(15 اپریل 2026): امریکا نے اعلان کیا ہے کہ ایرانی تیل پر عائد پابندیوں میں دی گئی عارضی نرمی کی مدت میں توسیع نہیں کرے گا۔
امریکی محکمہ خزانہ نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ وہ ایرانی تیل پر عائد پابندیوں میں دی گئی عارضی نرمی کی مدت میں توسیع نہیں کرے گا۔ اس نرمی کا مقصد جنگ کی وجہ سے تیل کی فراہمی میں پیدا ہونے والے تعطل کو کم کرنا تھا۔
محکمہ خزانہ نے ایک بیان میں کہا کہ سمندر میں موجود ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت دینے والی قلیل مدتی رعایت چند دنوں میں ختم ہو جائے گی اور اس کی تجدید نہیں کی جائے گی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکا تہران پر ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ برقرار رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔
ابتدائی طور پر دی گئی اس رعایت کے تحت 20 مارچ سے قبل بحری جہازوں پر لدے ہوئے ایرانی خام تیل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل اور فروخت کی اجازت دی گئی تھی، جس کی مدت 19 اپریل کو ختم ہو رہی ہے۔
یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے بعد توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا حصہ تھا، جس میں روسی تیل پر عائد پابندیوں میں بھی ایسی ہی نرمی دی گئی تھی۔
ایران نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت کو روک دیا ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا موقف ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام اور مشرق وسطیٰ میں اس کے حمایت یافتہ گروپوں کی وجہ سے اس پر سخت ترین دباؤ ڈال رہی ہے، تاہم پابندیوں کے باوجود ایرانی تیل کی چین کو فروخت جاری رہی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


