The news is by your side.

Advertisement

بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کو استعمال کررہا ہے، امریکی وزیردفاع

واشنگٹن : امریکی وزیردفاع جیمز میٹس نے کہا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کو استعمال کررہا ہے،امریکا نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو بھی سراہا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی وزیردفاع نے بھارت کے مکروہ چہرے سے نقاب کھینچ ڈالا، جیمس میٹس نے بھارتی خفیہ ایجنسی را اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے گٹھ جوڑ کا بھانڈا پھوڑ دیا۔

نامور بھارتی اخبارکی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر دفاع جیمس میٹس کا کہنا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ساتھ گٹھ جوڑ کے بارے میں احسان اللہ احسان کے انکشافات نے بھارت کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔

جیمس میٹس نے کہا را اور طالبان کا میل جول اشارہ کرتا ہے کہ بھارت ٹی ٹی پی کو پاکستان میں دہشتگردی کے لئے استعمال کرتا ہے ۔


مزید پڑھیں : طالبان کے ساتھ مذاکرات میں کردارادا کرنے کو تیارہیں،امریکی محکمہ خارجہ


امریکی وزیردفاع نے دہشتگردی کےخلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کی بھی تعریف کی، جیمس میٹس نے کہا کہ پاکستان میں ملٹری آپریشنز سے افغانستان میں طالبان گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوئے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی وزیردفاع جیمس میٹس دو روزہ دورے پر آج بھارت پہنچیں گے، پاکستان سے ڈومورکا مطالبہ کرنے والے امریکا کے وزیردفاع بھارت سے ٹی ٹی پی اوررا کے تعلقات ختم کرنے کی درخواست کریں گے۔

دفاعی تجزیہ کارطلعت مسعود امریکی وزیر دفاع کے بیان کو بڑی تبدیلی قرار دیا، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈونلڈٹرمپ کے بیان کے بعد پاکستان کا ردعمل رنگ دکھا رہا ہے، امریکا جان چکا ہے، پاکستان کی مدد کے بغیر افغانستان سے نکلنا آسان نہیں۔

خیال رہے کہ بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہےکہ بھارتی خفیہ ایجنسی را اور ٹی ٹی پی کا آپس میں گٹھ جوڑ ہے جس کے ذریعے شدت پسند پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردی کررہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت عالمی دنیا کی مخالفتوں کے باوجود کالعدم دہشت گرد تنظیموں سے اپنے تعلقات ختم نہیں کررہا، جو مستقبل میں اُس کے لیے نقصان دہ ہوگا، بھارتی خفیہ ایجنسی را اور کالعدم ٹی ٹی پی کے تعلقات اُس وقت منظر عام پر آئے جب احسان اللہ احسان نے اس بات کا خود انکشاف کیا۔


 

اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں