بیجنگ(15 مئی 2026): چین پر برسوں سے سخت تنقید کرنے والے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بیجنگ پہنچنے کے پیچھے ایک ایسا دلچسپ اور حیران کن سفارتی حل سامنے آیا ہے جس نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مارکو روبیو ماضی میں بیجنگ کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی وجہ سے چین کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کی بلیک لسٹ میں شامل تھے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ ان کا حالیہ دورۂ چین ایک بڑا سفارتی مسئلہ بن چکا تھا، کیونکہ مروجہ قوانین کے تحت پابندی کے باعث انہیں چینی سرزمین پر اترنے کی اجازت نہیں مل سکتی تھی۔
تاہم، چین نے مارکو روبیو پر سے باضابطہ پابندی ہٹائے بغیر ہی ایک انوکھا راستہ نکال لیا۔ سفارتی حل کے تحت چینی حکام نے سرکاری دستاویزات اور ویزا ریکارڈ میں مارکو روبیو کے نام کے چینی ہجے (اسپیلنگ) خاموشی سے تبدیل کر دیے۔
نام کے ہجے تبدیل ہونے سے تکنیکی طور پر پرانے نام "مارکو روبیو” پر پابندی برقرار رہی، لیکن وہ نئے ہجوں کے ساتھ "مارکو لو” بن کر چین پہنچ گئے۔ اس سارے معاملے پر نہ تو کوئی بڑا عوامی اعلان کیا گیا اور نہ ہی کوئی باقاعدہ معاہدہ ہوا، بلکہ صرف نام کی تبدیلی کے ذریعے ایک انتہائی حساس اور بڑے سفارتی تعطل کو خاموشی سے حل کر لیا گیا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


