The news is by your side.

Advertisement

امریکی سینیٹرز کا مائیک پومپیو کو خط، کشمیر اور بھارت کی صورت حال پر اظہار تشویش

واشنگٹن: امریکی صدر ٹرمپ کے دورۂ بھارت سے قبل چار سینیٹرز نے وزیر خارجہ کو مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر خط لکھا اور صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ آئندہ دنوں میں بھارت کا اہم دورہ کریں گے اور امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اہم معاہدے بھی ہوں گے۔

امریکی سینیٹر لنزے گراہم سمیت چار سینیٹرز نے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو  خط ارسال کیا جس میں انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے لاک ڈاؤن اور صورتحال پر گہری تشویش اظہار کیا۔

امریکی سینیٹرز نے خط میں کہا کہ ’مقبوضہ کشمیر میں لگائی جانے والی پابندیوں اور لاک ڈاؤن کے سنگین نتائج ہوں گے کیونکہ بھارت نے مقبوضہ وادی میں طویل عرصے مواصلات اور انٹرنیٹ پر پابندی عائد کی ہوئی ہے‘۔

مزید پڑھیں: دنیا کو مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی اقدامات سے آگاہ کر رہے ہیں: دفتر خارجہ

سینیٹرز نے لکھا کہ کشمیری عوام صحت اوربنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں لاک ڈاؤن کی وجہ سے کاروبار بری طرح سے متاثر ہوئے اور تعلیمی ادارے مسلسل بند ہیں۔

سینٹرز نے مطالبہ کیا کہ بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر اور شہریت کے متنازع قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں گرفتار افرادکی تعداد تیس دن کے اندر فراہم کرے کیونکہ مودی کے اقدامات سے بھارت کی مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور بھارت کے سیکولر کردار کو خطرہ لاحق ہوگيا ہے۔

سینیٹرز نے لکھا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے انتخابات میں کامیابی کے بعد اقتدار سنبھالتے ہی ہندو قوم پرستی کے ایجنڈے پر تیزی سے کام کیا ہے۔ اس سے لوگوں میں اس بات کے لیے بےچینی پیدا ہوئی ہے کہ بھارت کا بطور ایک سیکولر جمہوریت کردار خطرے میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آزادی کشمیریوں کاحق ہے بھارت فوری کشمیریوں پر ظلم بند کرے، نیلسن منڈیلا کے داماد

بھارت نے 5 اگست 2019ء کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے پوری وادی کو جیل میں تبدیل کر کے ہند نواز رہنماؤں سمیت حریت رہنماؤں کو بھی گرفتار کر رکھا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں