The news is by your side.

Advertisement

“روس کی دھمکی پر امریکی بحری جہاز نکل بھاگا”

ماسکو : روس نے بحیرہِ جاپان میں موجود امریکی بحریہ کے ڈیسٹروئر جنگی جہاز کو اپنی سمندری حدود میں داخل ہونے کی کوشش پر واپس بھیج دیا اور دھمکی دی کہ نہ جانے پر ٹکر ماردی جائے گی۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق یہ واقعہ منگل کو بحیرہِ جاپان میں پیش آیا جسے بحیرہِ مشرقی بھی کہا جاتا ہے اور اس کے گرد روس، جاپان اور شمالی و جنوبی کوریا واقع ہیں۔

روسی میڈیا کے مطابق روسی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے ایک جنگی بحری جہاز نے امریکی بحریہ کے ڈیسٹروئر جنگی جہاز کو منگل کے روز بحیرہِ جاپان میں اپنی سمندری حدود میں داخل ہونے پر بھگا دیا ہے۔

ماسکو نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکی بحری جہاز یو ایس ایس جان ایس مک کین خلیجِ پیٹر دی گریٹ میں اس کی سمندری حدود میں دو کلومیٹر تک اندر آگیا تھا جس کے بعد روس نے اس جہاز کو ٹکر مار کر نقصان پہنچانے کی دھمکی دی۔

روس کے مطابق اس دھمکی کے بعد یہ بحری جہاز اس علاقے سے نکل گیا لیکن دوسری جانب امریکی بحریہ نے کسی بھی غلط کام کے ارتکاب سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے بحری جہاز کو سمندری حدود سے نکالا نہیں گیا ہے۔

روسی وزارتِ دفاع کے مطابق اس کے پیسیفک بحری بیڑے کے ڈیسٹروئر جنگی جہاز ایڈمرل وینوگرادوف نے رابطے کے بین الاقوامی چینل کا استعمال کرتے ہوئے امریکی بحری جہاز کو خبردار کیا کہ اسے اپنی بحری حدود سے نکالنے کے لیے ٹکر مارنے کا آپشن بھی موجود ہے۔

امریکی بحریہ کے ساتویں بحری بیڑے کے ترجمان لیفٹیننٹ جو کیلی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس مشن کے متعلق روس کا بیان جھوٹا ہے۔ یو ایس ایس جان ایس مک کین کو کسی بھی ملک کی حدود سے نکالا نہیں گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ کبھی بھی روس جیسے غیر قانونی بحری دعوؤں کے سامنے نہ جھکے گا نہ دباؤ میں آ کر انہیں قبول کرے گا۔

یاد رہے کہ سال1988 میں سوویت بحریہ کے ایک فریگیٹ جنگی جہاز بیزا ویٹنی نے بحیرہِ اُسود کے علاقے یارک ٹاؤن میں ایک امریکی کروزر جنگی جہاز کو ٹکر ماری تھی اور اس پر بحری حدود سے تجاوز کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

روس اور امریکہ کے درمیان تعلقات اب بھی تناؤ کے شکار ہیں اور روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اب تک امریکی صدارتی انتخاب میں کامیابی پر جو بائیڈن کو مبارکباد نہیں دی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں