The news is by your side.

Advertisement

امریکا میں شٹ ڈاؤن کرسمس کے بعد بھی جاری

واشنگٹن: کرسمس کا دن بھی گزرگیا لیکن امریکی صدر کے موقف میں شٹ ڈاؤن کے حوالے سے نرمی نہیں آئی، کہتے ہیں امریکا میکسیکو دیوار کے لیے فنڈز جاری کرنے تک شٹ ڈاؤن جاری رہے گا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی حکومت ان دنوں شٹ ڈاؤن کا سامنا کررہی ہے ، یہ شٹ ڈاؤن گزشتہ ہفتے کے روز شروع ہوا تھا، تاحال اس بل پر دستخط نہیں ہوسکے ہیں جس کے ذریعے امریکی حکومت کے متعدد محکموں کے روکے گئے فنڈ بحال ہوں گے اور شٹ ڈاؤن ختم ہوگا۔

امریکی صدر نے کرسمس ڈے کے بعد بیرونِ ملک موجود امریکی افواج سے خطاب کرتا ہوئے کہا کہ ’فی الحال میں کچھ نہیں کہہ سکتا ہے کہ حکومت کا کاروبار دوبارہ کب تک شروع ہوسکے گا‘۔’ ہاں ! میں یہ بتا سکتا ہوں کہ جب تک ہمیں دیوار کی تعمیر کےلیے پیسے نہیں مل جاتے ، چاہے اس کا کچھ بھی نام رکھا جائے، ایک ہی بات ہے۔ یہ ایک رکاوٹ ہے ان لوگوں کو روکنے کے لیے جو ہمارے ملک کو منشیات سے آلودہ کررہے ہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم دیوار کی تعمیر شروع نہیں کررہے تو پھر ہم اپنا کام شروع نہیں کرسکتے۔

یادرہے کہ وفاقی حکومت کے ایک چوتھائی محکموں کے لیے فنڈنگ کی مدت گزشتہ جمعے اور ہفتے کی دمیانی شب ختم ہوگئی تھی اور اس کے سبب متاثر ہونے والے محکموں میں ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی ، انصاف اور زراعت شامل ہیں۔ اگر اس پر حکومت اور کابینہ کے درمیان ڈیل نہیں ہوتی تو امکان ہے کہ یہ شٹ ڈاؤن نیا سال شروع ہونے تک جاری رہے گا۔

امریکی صدر کا حالیہ بیان ایسی صورتحال میں سامنے آیا ہے جب ڈیموکریٹس کی جانب سے الزام عائد کیا جارہا ہے کہ ’’انہوں نے ملک کو افراتفری کی نذر کردیا ہے‘۔ ڈیموکریٹس نے یہ بیان ملک کی اسٹاک مارکیٹ کی گرتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے بلائے گیا اجلاس میں عائد کیا ۔

امریکی کانگریس کے دو صف اول کے ڈیموکریٹس لیڈر نینسی پیلوسی اور چک شمر نے اپنے مشترکہ بیانیے میں کہا تھا کہ ’یہ کرسمس کی شام ہے اور صدر ٹرمپ نے ملک کو افراتفری کی نذر کردیا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال کے تیسرے شٹ ڈاؤن کے سبب وفاقی حکومت کے نو ادارے بند ہیں اور ان میں کام کرنے والےآٹھ لاکھ ملازمین کو نہیں معلوم کہ نئے سال میں انہیں تنخواہ بھی ملے گی یا انہیں مفت میں بیگار بھگتنا ہوگی۔

امریکی صدر بضد ہیں کہ موجودہ معاشی بل میں میکسیکو کی سرحد کے ساتھ دیوار یا باڑھ تعمیر کرنے کے لیے پانچ ارب ڈالر بھی ادا کیے جائیں ، اس مطالبے پر وفاقی حکومت اور کانگریس میں ڈیڈ لاک پیدا ہوا ہے ، جو کہ شٹ ڈاؤن کا سبب ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں