واشنگٹن (08 نومبر 2025): امریکی تاریخ کے طویل ترین شٹ ڈاؤن کو 40 دن گزر گئے، وفاقی فنڈنگ معطل ہونے کی وجہ سے پروازوں میں بڑے پیمانے پر کمی کی جا رہی ہے۔
ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس کے درمیان فنڈنگ بل پر تاحال کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا، جس کے باعث وفاقی اداروں کی فنڈنگ مکمل طور پر بند ہو چکی ہے، ٹرمپ انتظامیہ نے بڑھتے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ایئر ٹریفک کنٹرولرز پر دباؤ میں نرمی لانے کی غرض سے ملک بھر میں پروازوں کی تعداد میں کمی کا حکم دیا ہے۔
اس فیصلے کے تحت گزشتہ روز امریکا بھر میں 800 پروازیں منسوخ کر دی گئیں، جب کہ 40 بڑے ہوائی اڈوں پر فضائی آپریشن محدود کر دیا گیا ہے۔ متاثرہ ایئرپورٹس میں اٹلانٹا، نیویارک، ڈینور، شکاگو، ہیوسٹن اور لاس اینجلس جیسے مصروف ترین مراکز شامل ہیں۔
شٹ ڈاؤن کے باعث ہزاروں سرکاری ملازمین اور ایئرپورٹس کا عملہ یا تو معطل ہے یا بغیر تنخواہ کے فرائض انجام دے رہا ہے۔
دہلی ایئرپورٹ پر سسٹم میں خرابی، سینکڑوں پروازیں متاثر
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اب تک جمعے سے شروع ہونے والی حکومت کی ہدایت کے تحت فضائی صنعت میں کمی کے باوجود کوئی وسیع پیمانے پر خلل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر پروازوں کی منسوخیاں بڑھتی گئیں اور تھینکس گیونگ تہوار کی تعطیلات کے قریب پہنچ گئیں تو یہ انتشار مزید شدت اختیار کرے گا اور اس کے اثرات صرف فضائی سفر تک محدود نہیں رہیں گے۔
پہلے ہی ان شہروں اور کاروباروں کے بارے میں خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں جو سیاحت پر انحصار کرتے ہیں، نیز سامان کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹوں سے متعلق بھی فکرمندی پائی جا رہی ہے، اس لیے پروازوں کی منسوخی چھٹیوں کے موسم کی اشیا کو دکانوں تک پہنچانے میں تاخیر کا باعث بن سکتی ہے۔
فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق فیصلے کے پہلے دن 1,000 سے زائد پروازیں منسوخ ہوئی ہیں، ہفتے کے روز مزید 700 پروازیں بند کی گئیں، حالاں کہ عام طور پر ہفتہ ایک نسبتاً سست سفر کا دن ہوتا ہے۔ یہ تعداد اگرچہ پورے ملک میں مجموعی پروازوں کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کمی کا سلسلہ جاری رہا تو یہ اعداد و شمار آنے والے دنوں میں تیزی سے بڑھ سکتے ہیں۔
ابتدائی طور پر 40 منتخب ہوائی اڈوں پر پروازوں میں 4 فی صد تک کمی کی جا رہی ہے، جو آئندہ ہفتے کے دوران بڑھ کر 10 فی صد تک پہنچ جائے گی۔ ٹرانسپورٹیشن سیکریٹری شان ڈفی نے جمعہ کے روز خبردار کیا کہ اگر حکومتی شٹ ڈاؤن جاری رہا اور مزید ایئر ٹریفک کنٹرولرز اپنی ڈیوٹی سے غیر حاضر ہوئے، تو اضافی پروازوں میں کٹوتی کی جا سکتی ہے۔


