جمعرات, فروری 12, 2026
اشتہار

امریکی عوام نے ٹرمپ کی غیر ممالک میں مداخلت اور دھمکیوں کو مسترد کر دیا

اشتہار

حیرت انگیز

واشنگٹن (15 جنوری 2026): امریکی عوام نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر ممالک میں مداخلت اور دھمکیوں کو مسترد کر دیا۔

امریکی میڈیا میں بدھ کو جاری دو تازہ سروے رپورٹس میں عوام نے اظہار ناپسندیدگی کیا ہے، اکثریت کی رائے تھی کہ فوجی کارروائی سے پہلے کانگریس سے منظوری لی جائے۔

اے پی پریس سینٹر فار پبلک افیئرز ریسرچ اور کوئن پیاک یونیورسٹی کی سروے رپورٹس میں شہریوں نے اپنے مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں وینزویلا میں مداخلت اور گرین لینڈ کو دھمکیاں قابل قبول نہیں ہیں۔

ان سرویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ تر امریکی ووٹرز نہیں چاہتے کہ امریکا ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرے، اور ان کا خیال ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بیرونِ ملک معاملات میں حد سے تجاوز کر رہے ہیں۔

کوئن پیاک یونیورسٹی کے رجسٹرڈ ووٹرز پر کیے گئے سروے کے مطابق 70 فی صد افراد ایران میں امریکی فوجی مداخلت کے مخالف ہیں، حتیٰ کہ اس صورت میں بھی جب وہاں ایرانی حکومت کے خلاف مظاہروں کے دوران مظاہرین ہلاک ہو جائیں۔ اس کے مقابلے میں 18 فی صد افراد فوجی کارروائی کے حق میں ہیں۔

’پتہ نہیں وہ کیسے زندہ ہیں‘ امریکی وزیر صحت کا ٹرمپ سے متعلق حیران کن انکشاف

مخالفت زیادہ تر جماعتی بنیادوں پر دیکھی گئی، جہاں 79 فی صد ڈیموکریٹس اور 80 فی صد آزاد ووٹرز نے فوجی مداخلت کی مخالفت کی، ری پبلکنز نسبتاً زیادہ حامی نظر آئے، تاہم ان میں بھی اکثریت یعنی 53 فی صد نے کہا کہ امریکا کو اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ 70 فی صد ووٹرز کا خیال ہے کہ کسی بھی فوجی کارروائی سے قبل صدر کو کانگریس سے منظوری حاصل کرنی چاہیے۔ ٹرمپ نے مادورو کو گرفتار کرنے سے پہلے کانگریس کی منظوری حاصل نہیں کی تھی، جس پر ڈیموکریٹ اور ری پبلکن دونوں جماعتوں کے قانون سازوں نے تنقید کی۔

ری پبلکن پارٹی کے پانچ سینیٹرز، کینٹکی کے رینڈ پال، الاسکا کی لیزا مرکوسکی، مین کی سوزن کولنز، انڈیانا کے ٹوڈ ینگ اور میزوری کے جوش ہالی نے ڈیموکریٹ قانون سازوں کے ساتھ مل کر ایسی قانون سازی کو آگے بڑھایا ہے، جس کے تحت ٹرمپ کو وینزویلا میں مزید کسی بھی فوجی قدم سے پہلے کانگریس کی منظوری لینا لازم ہو جائے۔

ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ان سینیٹرز کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ری پبلکنز کو اس پر ’’شرمندہ‘‘ ہونا چاہیے اور یہ کہ انھیں ’’دوبارہ کبھی کسی عہدے پر منتخب نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ یہ امریکی قومی سلامتی کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔‘‘

ووٹرز ٹرمپ انتظامیہ کی دیگر جارحانہ خارجہ پالیسی کوششوں کے بھی کم حامی نظر آئے، جن کا مقصد بیرونِ ملک امریکی اثر و رسوخ کو بڑھانا تھا۔ ٹرمپ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کی کوشش قومی سلامتی کے مقاصد اور نیٹو کے فائدے کے لیے ہے۔ اس کے باوجود 86 فی صد افراد نے گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کے لیے فوجی طاقت کے استعمال کی مخالفت کی، جب کہ 55 فی صد نے اسے خریدنے کی بھی مخالفت کی۔

اسی طرح ایسوسی ایٹڈ پریس کے نورک سینٹر فار پبلک افیئرز ریسرچ کے ایک علیحدہ سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ امریکیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد چاہتی ہے کہ امریکا عالمی امور میں ’’کم فعال کردار‘‘ ادا کرے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں