The news is by your side.

Advertisement

امریکا کا جوہری معاہدہ کی دستبرداری کے بعد پہلا کروز میزائل تجربہ

واشنگٹن: امریکا نے جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کے معاہدے سے دستبرداری کے بعد پہلا میزائل تجربہ کرلیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق پینٹاگون کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ امریکا نے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کا تجربہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ زمین سے زمین تک مار کرنے والا روایتی کروز میزائل ہے جس کی رینج 500 کلو میٹر ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ 31 سالوں میں امریکا کی جانب سے کسی بھی قسم کے کروز میزائل کا کیا جانے والا یہ پہلا تجربہ ہے۔

اس ضمن میں بات کرتے ہوئے امریکا کے سیکریٹری دفاع مارک ایسپر نے کہا کہ اگر امریکی فوج زمینی لانچ سے چلنے والے کروز میزائل کا مکمل نظام بنالیتی ہے تو اسے جلد ایشیاء میں لگایا جائے گا۔

مزید پڑھیں: روس اور امریکا کے مابین نیوکلیئر ٹریٹی ختم، جرمنی کے تحفظات

بین الاقوامی دفاعی تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کے معاہدے سے دستبرداری کے بعد امریکا، روس اور چین کے مقابلے میں خود کو مزید مضبوط کرنے کی راہ پر چل پڑا ہے۔

امریکی سیکریٹری دفاع کا کہنا تھا کہ چین کے پاس 80 فیصد تک 500 سے لے کر پانچ ہزار کلو میٹر تک کی رینج والے میزائل موجود ہیں۔

دوسری جانب امریکا کی جانب سے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے نئے میزائل تجربے پر چین اور روس نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی میزائل تجربے سے عالمی سطح پر ہتھیاروں کے حصول کی ایک نئی دوڑ شروع ہوسکتی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں