The news is by your side.

Advertisement

امریکا نے فلسطینی امور کا دفتر متنازع سفارت خانے میں‌ منتقل کردیا

واشنگٹن : امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے فلسطینی امور کے دفتر کو یروشلم میں قائم کیے گئے متنازع سفارت خانے میں منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکا نے ایک مرتبہ پھر فلسطینیوں پر ظلم و ستم ڈھانے کے لیے یروشلم میں بنائے گئے متنازع سفارت خانے میں دفتر برائے فلسطینی امور کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کا کہنا تھا کہ مقبوضہ فلسطین کے شہریوں سے معاملات طے کرنے کے لیے امریکی حکومت نے الگ دفتر قائم کیا تھا جسے اب یروشلم میں قائم نئے سفارت خانے میں منتقل کردیا جائے گا۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ مقبوضہ فلسطین کے شہریوں کی جانب سے امریکا کے اس اقدام کی شدید مخالفت کی جارہی ہے۔

فلسطینی سفارت کار صائب اریکاٹ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اسرائیل کو گریٹر اسرائیل بنانے کے لیے کام کررہی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ امریکا کے قائم کیے گئے فلسطینی امور کے دفتر کو سفارت خانے میں منتقل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ فلسطینی امور کو امریکی سفارت کے زیر انتظام چلایا جائے۔

واضح رہے کہ گذشتہ برس کے اختتام پر وائٹ ہاوس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے جس کے بعد امریکی سفارت خانہ یروشلم منتقل کردیا جائے گا۔

یاد رہے کہ نئے سفارت خانے کے افتتاح کی تقریب کے دوران اسرائیل میں امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈمین نے کہا تھا کہ آج ہم بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کا افتتاح کررہے ہیں، تقریب میں واشنگٹن سے آنے والے ایک امریکی وفد اور اسرائیلی رہنماؤں نے بھی شرکت کی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں