The news is by your side.

Advertisement

امریکا جنگل کے قانون کی بنیاد پر تجارتی ٹیکسز عائد کررہا ہے، فرانسیسی وزیر خزانہ

بیونس آئرس : فرانسیسی وزیر خزانہ نے ارجنٹینا میں جاری جی 20 ممالک کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے چین اور یورپی یونین کی مصنوعات پر عائد کیے جانے والے ٹیکسز یکطرفہ ہیں، جس کی بنیاد جنگل کا قانون ہے۔

تفصیلات کے مطابق براعظم امریکا کے ملک ارجنٹینا کے دارالحکومت بیونس آئرس میں جی 20 ممالک کے وزارئے خزانہ کے منعقدہ اجلاس میں فرانسیسی وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ دنیا میں جاری تجارتی جنگ ایک حقیقت ہے۔

فرانسیسی وزیر خزانہ براؤنو لی کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے عائد یکطرفہ محصولات کی حالیہ تجارتی پالیسی کی بنیاد ’جنگل کا قانون‘ ہے، جنگل کے قانون میں وہی باقی رہ سکتا ہے جو سب سے زیادہ مضبوط ہو، لیکن عالمی تجارتی تعلقات کے مستقبل نہیں ہے۔

فرانسیسی وزیر خزانہ نے جی 20 اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی تجارت کی بنیاد جنگل کے قانون پر نہیں ہوتی اور یکطرفہ ٹیکسز عائد کرنا جنگل کا قانون ہے۔

براؤنو لی کا مزید کہنا تھا کہ جنگل کا قانون تجارتی خسارے ختم کرسکتا ہے تاہم اس سے ترقی کی شرح کم ہوگی، امریکا کی حالیہ تجارتی پالیسی کمزور ممالک کے لیے خطرہ ہے اور اس کے سیاسی نتائج تباہ کن ہوں گے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خزانہ اسٹوین میوچن نے امریکا کی جانب سے عائد کردہ تجارتی محصولات کا دفاع کرتے ہوئے یورپی یونین اور چین سے کہا کہ ’وہ اپنی مارکیٹیں مقابلے کے کھول دیں‘۔

خیال رہے کہ ایک ہفتہ قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یورپی یونین تجارت میں دشمن ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ اس سے قبل ٹرمپ امریکا میں درآمد کی جانے والی چینی مصنوعات پر 5 کھرب ڈالر کے ٹیکسز عائد کرنے کی دھمکی دی تھی۔ امریکا کو ان دنوں یورپی یونین اور چین کے ساتھ ہونے والی تجارت میں بڑے خسارے کا سامنا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں