ہفتہ, مارچ 14, 2026
اشتہار

کروڑوں ٹرانسفارمرز ناکارہ، امریکا اچانک اندھیرے میں ڈوب سکتا ہے

اشتہار

حیرت انگیز

واشنگٹن (10 فروری 2026): امریکا میں بجلی کے ٹرانسفارمرز کی خراب حالت نے حکومت کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، رپورٹس کے مطابق امریکا کے نصف سے زیادہ بجلی ٹرانسفارمر ناکارہ ہو چکے ہیں۔

امریکی محکمہ توانائی نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ امریکا میں اندازاً 8 کروڑ بجلی کے ٹرانسفارمرز استعمال میں ہیں، پاور سسٹم ٹیکنالوجی کی رپورٹ کے مطابق 55 فی صد ٹرانسفارمرز اپنی عمر پوری کر چکے ہیں، اس لیے اگر انہی ٹرانسفارمرز پر قابلِ تجدید توانائی چلائی گئی تو پورا بجلی نظام بیٹھ سکتا ہے، اور امریکا اندھیرے میں ڈوب جائے گا۔

ٹرانسفارمر بحران کی وجہ سے قابل تجدید توانائی امریکا کے لیے گلے کی ہڈی بن گئی ہے، اور امریکا پر اندھیرے میں ڈوب جانے کا خطرہ منڈلانے لگا ہے، زیادہ تر ٹرانسفارمرز 33 سال پرانے ہیں، جب کہ ان کی زیادہ سے زیادہ عمر 35 سال ہوتی ہے، جب کہ تقریباً 20 فی صد ٹرانسفارمرز 25 سال سے زائد پرانے ہیں، اور صرف 25 فی صد ٹرانسفارمرز ہی اس وقت قابلِ اعتماد حالت میں ہیں۔

امریکی محکمہ توانائی نے بھی خبردار کیا ہے کہ پرانے ٹرانسفارمر کسی بھی وقت فیل ہو سکتے ہیں، ماحولیاتی تبدیلی کے باعث قابلِ تجدید توانائی پر زور دیا جا رہا تھا، مگر اب امریکا نے مؤقف بدل لیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ قابلِ تجدید توانائی بلیک آؤٹ کا سبب بن سکتی ہے۔

امریکا میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف پہلی بار مقدمہ کی سماعت

چینی تھنک ٹینک کے مطابق قابلِ تجدید توانائی سے خرابی کے امکانات 4 گنا بڑھ جاتے ہیں، اسی لیے امریکا نے روایتی بجلی پیدا کرنے کے نظام کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکا زیادہ تر ٹرانسفارمرز یورپ اور میکسیکو سے درآمد کرتا ہے، 80 فی صد پاور ٹرانسفارمرز اور 50 فیصد ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمرز درآمدی ہیں۔ جب کہ 2025 میں پاور ٹرانسفارمرز کی فراہمی میں 30 فی صد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسی دوران ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمرز کی کمی 10 فیصد تک پہنچ گئی۔

امریکی محکمہ توانائی کا کہنا تھا کہ ہمیں نہ صرف نئے ٹرانسفارمرز بنانے کی ضرورت ہے بلکہ ہمیں ان ٹرانسفارمرز کو تبدیل کرنے کی بھی ضرورت ہے جو پرانے ہو رہے ہیں۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے مطابق پاور ٹرانسفارمرز کی تیاری تکنیکی طور پر نہایت پیچیدہ عمل ہے اور اس کے لیے جدید سہولیات درکار ہوتی ہیں۔ ایجنسی کے مطابق 2023 میں چین، جنوبی کوریا، ترکیہ اور اٹلی نے عالمی سطح پر پاور ٹرانسفارمرز کی مجموعی تجارت کا 50 فی صد حصہ حاصل کیا، جس میں سے صرف چین کا حصہ اس کا نصف تھا۔

آئی ای اے کے مطابق امریکا اور یورپ دونوں نے 2018 کے بعد سے پاور ٹرانسفارمرز کی درآمدی تجارت کی مالیت دو گنا سے بھی زیادہ کر لی ہے۔ امریکا زیادہ تر ٹرانسفارمرز میکسیکو، یورپ اور جنوبی کوریا سے حاصل کرتا ہے، جب کہ چین اب یورپی یونین کی درآمدات کا 60 فی صد سے زائد حصہ فراہم کر رہا ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں