The news is by your side.

Advertisement

فوجی تربیتی پروگرام کی بحالی دفاعی تعلقات کی بحالی کی جانب پہلا قدم ہے: وزیر خارجہ

سینئر سینیٹر لنزے گراہم اور امریکی سینیٹ خارجہ تعلقات کمیٹی کی قیادت سے بھی ملاقاتیں

واشنگٹن: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ فوجی تربیتی پروگرام کی بحالی پاک امریکا دفاعی تعلقات کی بحالی کی جانب پہلا قدم ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے آج امریکی نائب سیکریٹری دفاع جان روڈ نے ملاقات کی، جس میں پاک امریکا دفاعی تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں خطے کی سیکورٹی صورت حال اور چیلنجز پر گفتگو کی گئی۔

امریکی انڈر سیکریٹری دفاع نے وزیر خارجہ کو پاک امریکہ دفاعی تعاون کی موجودہ نوعیت سے آگاہ کیا جب کہ وزیر خارجہ نے انھیں پاکستان کی جانب سے جنوبی ایشیائی خطے میں قیام امن کے لیے کی جانے والی مختلف کاوشوں سے آگاہ کیا۔

شاہ محمود نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے مابین دفاعی اور سیکورٹی تعاون، ہمارے دو طرفہ تعاون کی اہم کڑی ہے، امریکا کی جانب سے بین الاقوامی عسکری تعلیم و تربیت پروگرام (IMEP) کی بحالی کا فیصلہ ہمارے نزدیک بہت اہمیت کا حامل ہے، اس فیصلے سے دونوں ممالک کے مابین عسکری تعاون کی نئ راہیں کھلیں گی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پورے خطے کے لیے خطرات کا موجب بن سکتی ہے اسی لیے پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور امن کاوشیں بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا۔

وزیر خارجہ نے آج کیپیٹل ہل میں سینئر ریپبلکن امریکی سینیٹر لنزے گراہم سے ملاقات کی

وزیر خارجہ نے امریکی انڈر سیکریٹری دفاع کو اپنے حالیہ دورۂ ایران و سعودی عرب کی تفصیلات بتاتے ہوئے ایران امریکا کشیدگی میں کمی لانے اور خطے میں قیام امن کے لیے پاکستان کی جانب سے متحرک اور مثبت کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

قبل ازیں، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی امریکی سینیٹر لنزے گراہم سے بھی ملاقات ہوئی، جس میں دو طرفہ تعلقات اورعلاقائی صورت حال پر گفتگو کی گئی، وزیر خارجہ نے تذویراتی شراکت داری کے لیے لنزے گراہم کے کردار کو سراہا۔

شاہ محمود کی کیپیٹل ہل میں امریکی سینیٹ خارجہ تعلقات کمیٹی کی قیادت سے ملاقات

اس سے قبل وزیر خارجہ کی امریکی سینیٹ خارجہ تعلقات کمیٹی کی قیادت سے بھی اہم ملاقات ہوئی، کمیٹی کے چیئرمین جم رسچ، سینئر رکن باب میننڈز نے وزیر خارجہ کا خیر مقدم کیا، خارجہ تعلقات ذیلی کمیٹی برائے ایشیا کے چیئرمین مٹ رامنی، اور سینئر رکن کرس مرفی بھی موجود تھے۔ ملاقات میں باہمی تعلقات، افغان امن عمل، خطے اور مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا، شاہ محمود نے کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے خطے کی سلامتی پر اثرات سے آگاہ کیا۔

شاہ محمود نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے، پاک امریکا تعلقات کی تاریخ دونوں ممالک کے مل کر کام کرنے کی قدر و اہمیت کی شاہد ہے، پاکستان تعلقات کے فروغ کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرے گا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں